ایران کی فوجی صلاحیتیں تیزی سے بحال، امریکی انٹیلیجنس میں انکشاف

فہرستِ مضامین

امریکی انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق ایران نے اپریل کے آغاز میں شروع ہونے والی چھ ہفتے کی جنگ بندی کے دوران اپنے ڈرونز کی پیداوار دوبارہ شروع کر دی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ہونے والے نقصان کے باوجود اپنی عسکری صلاحیتیں تیزی سے بحال کر رہا ہے۔

سی این این کو دیے گئے انٹرویوز اور چار مختلف ذرائع کے مطابق امریکی انٹیلیجنس کا اندازہ ہے کہ ایران اپنی فوجی صلاحیتوں کو پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ تیزی سے دوبارہ قائم کر رہا ہے۔

فوجی ڈھانچے کی بحالی اور خطرات

انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق ایران میزائل لانچرز، تنصیبات اور اہم ہتھیاروں کی پیداوار کی صلاحیت کو دوبارہ بحال کر رہا ہے، جو جنگ کے دوران تباہ یا متاثر ہوئی تھیں۔ اس پیش رفت کے باعث خطے میں امریکا کے اتحادی ممالک کے لیے خطرات برقرار ہیں، خاص طور پر اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ فضائی حملے شروع کرتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض امریکی تخمینوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اپنی ڈرون حملہ کرنے کی مکمل صلاحیت چھ ماہ کے اندر بحال کر سکتا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ایران انٹیلیجنس کمیونٹی کی تمام توقعات سے زیادہ تیزی سے اپنی صلاحیتیں بحال کر رہا ہے۔

ڈرون اور میزائل خطرات

ڈرون حملوں کو خطے کے لیے خاص طور پر خطرناک قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ایران ڈرون اور میزائل دونوں صلاحیتوں کو ملا کر اسرائیل اور خلیجی ممالک تک حملے کرنے کی پوزیشن میں رہ سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے متعدد بار خبردار کیا ہے کہ اگر ایران سے معاہدہ نہ ہوا تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے حالیہ بیان میں یہ بھی کہا کہ وہ بمباری دوبارہ شروع کرنے سے صرف ایک گھنٹہ دور تھے، جس سے صورتحال کی سنگینی واضح ہوتی ہے۔

ایران کو تیزی سے بحالی میں مدد کیوں ملی؟

امریکی انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق ایران کی تیزی سے بحالی کی ایک بڑی وجہ روس اور چین کی حمایت ہے۔ اس کے علاوہ امریکا اور اسرائیل اپنے اہداف کے مطابق مکمل تباہی نہیں کر سکے۔

رپورٹس کے مطابق چین نے جنگ کے دوران ایران کو ایسے پرزہ جات فراہم کیے جو میزائل سازی میں استعمال ہو سکتے ہیں، تاہم امریکی ناکہ بندی کے باعث یہ سپلائی کم ہوئی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ چین ایران کو میزائل سازی کے لیے اجزاء فراہم کر رہا ہے، تاہم چین نے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے۔

موجودہ عسکری صورتحال

امریکی انٹیلیجنس کے مطابق شدید نقصان کے باوجود ایران اب بھی بیلسٹک میزائل، ڈرون حملہ آور صلاحیت اور فضائی دفاعی نظام برقرار رکھے ہوئے ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس کی بحالی صفر سے شروع نہیں ہوئی۔

سی این این کی اپریل رپورٹ کے مطابق ایران کے تقریباً 50 فیصد میزائل لانچرز محفوظ رہ گئے تھے، جبکہ حالیہ اندازوں میں یہ تعداد دو تہائی تک بتائی جا رہی ہے، جس کی ایک وجہ جنگ بندی کے دوران ان کا دوبارہ قابل استعمال ہونا بھی ہے۔

مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہزاروں ایرانی ڈرونز اب بھی موجود ہیں، جو ملک کی مجموعی ڈرون صلاحیت کا تقریباً نصف بنتے ہیں۔

اختلافی دعوے اور تجزیے

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کی دفاعی صنعتی صلاحیت کا 90 فیصد حصہ تباہ کیا جا چکا ہے، تاہم انٹیلیجنس رپورٹس اس دعوے سے اختلاف کرتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی دفاعی صنعت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ جزوی طور پر فعال ہے، جس کی وجہ سے وہ چند ماہ کے اندر دوبارہ اپنی صلاحیتیں بحال کرنے کی پوزیشن میں آ سکتا ہے۔

امریکی انٹیلیجنس ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کی بحالی میں تاخیر برسوں کی بجائے صرف چند ماہ کی ہوئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے باوجود ایران اپنی عسکری طاقت کو مکمل طور پر ختم ہونے سے بچانے میں کامیاب رہا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں