ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز ہو چکی ہیں، باخبر ذرائع نے ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ رضامندی کی صورت میں ایک ابتدائی معاہدے کا مسودہ سامنے لایا ہے۔
ذرائع کے مطابق، جو آج جمعہ کے روز العربیہ/الحدث سے گفتگو کر رہے تھے، اس مسودے میں 9 اہم نکات شامل ہیں جن میں تمام محاذوں پر فوری، جامع اور غیر مشروط جنگ بندی کی تجویز دی گئی ہے۔
مسودے میں واضح کیا گیا ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کی کسی بھی فوجی، شہری یا اقتصادی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ فوجی کارروائیوں کے مکمل خاتمے اور میڈیا وار یا پروپیگنڈا مہمات روکنے کی بھی شرط شامل ہے۔
جہاز رانی اور علاقائی اصول
مجوزہ معاہدے میں دونوں ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت کے احترام اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر زور دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور بحر عمان میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کی شق بھی شامل ہے۔
مسودے میں ایک مشترکہ نگرانی اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار کے قیام کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خلاف ورزی کو فوری طور پر نمٹایا جا سکے۔
مزید یہ کہ طے پایا ہے کہ معطل شدہ معاملات پر مذاکرات کا آغاز 7 دن کے اندر کیا جائے گا۔
امریکی پابندیاں اور مستقبل کا لائحہ عمل
مسودے کے مطابق ایران کی جانب سے شرائط کی پاسداری کے بدلے میں امریکہ کی جانب سے عائد پابندیاں مرحلہ وار ختم کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔
معاہدے میں اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کی توثیق بھی شامل ہے۔
توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ ابتدائی معاہدہ دونوں فریقین کے باضابطہ اعلان کے فوراً بعد نافذ العمل ہو سکتا ہے۔
محتاط امید اور سفارتی کوششیں
دوسری جانب ایک پاکستانی ذریعے نے العربیہ/الحدث کو بتایا کہ جاری سفارتی رابطوں میں “محتاط امید” کا عنصر موجود ہے، تاہم یہ بھی واضح کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان عبوری معاہدے کے علاوہ فی الحال کوئی متبادل راستہ موجود نہیں۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے مطالبات میں بہت زیادہ فرق کے باعث اختلافات کو کم کرنا آسان نہیں۔ خاص طور پر یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات اب بھی بنیادی رکاوٹ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان امور پر فریقین کے درمیان مسلسل رابطے جاری ہیں، اور اصل توجہ اس بات پر ہے کہ اعلیٰ افزودہ یورینیم کے مسئلے کو کس طرح حل کیا جائے۔ ان کے مطابق بڑے نکات پر مکمل اتفاق کے لیے مزید وقت درکار ہوگا۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان اس پورے عمل میں چین پر بھی انحصار کر رہا ہے تاکہ ممکنہ معاہدے کو آگے بڑھایا جا سکے۔
موجودہ سفارتی صورتحال
واضح رہے کہ ایران نے حال ہی میں امریکہ کو ایک نئی تجویز پیش کی تھی، تاہم اس کے نکات وہی تھے جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔ ان میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول، جنگی نقصانات کا معاوضہ، تمام امریکی پابندیوں کا خاتمہ اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی جیسے مطالبات شامل تھے۔
دوسری جانب پاکستانی ثالث نے چند روز قبل یہ امریکی جواب تہران کے حوالے کیا تھا، جس پر ایران نے کہا ہے کہ وہ اس کا جائزہ لے رہا ہے۔
اس سلسلے میں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی دو دن قبل تہران پہنچے تھے اور وہ اب بھی وہاں موجود ہیں۔ انہوں نے آج دوبارہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات بھی کی ہے، جہاں مذاکراتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔