ایم پی اے اور اداکارہ مومنہ اقبال کے درمیان دھمکیوں کا تنازع شدت اختیار کر گیا

فہرستِ مضامین

پنجاب کی رکن صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) اور اداکارہ مومنہ اقبال کے درمیان مبینہ دھمکیوں اور ہراسانی سے متعلق معاملہ مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے اداکارہ کی درخواست پر فریقین کو آج طلب کر لیا ہے، جہاں ابتدائی طور پر دونوں جانب سے مؤقف سنا جائے گا۔

دوسری جانب مذکورہ ایم پی اے نے بھی اپنے کزن کی مدعیت میں اپنے آبائی علاقے میں نامعلوم افراد کے خلاف دھمکیوں کا مقدمہ درج کروا رکھا ہے، جس سے معاملہ دو طرفہ قانونی کارروائی کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

معاملے کی تفصیل کیا ہے؟

اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنی شکایت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہیں ایک بااثر سیاسی شخصیت کی جانب سے طویل عرصے سے آن لائن ہراسانی، سائبر بُلنگ، ذہنی دباؤ اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔

ان کے مطابق انہوں نے متعدد بار نیشنل سائبر کرائم ایجنسی، ایف آئی اے اور پنجاب پولیس کو شکایات درج کروائیں، تاہم مبینہ طور پر سیاسی اثر و رسوخ کے باعث خاطر خواہ کارروائی نہیں کی گئی۔

مومنہ اقبال کا کہنا ہے کہ انہیں انصاف فراہم کرنے کے بجائے حوصلہ شکنی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کی اور ان کے اہلخانہ کی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری تفصیلی بیان میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سمیت اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ان کے خاندان کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے۔

اداکارہ نے اپنی پوسٹس میں مختلف سرکاری اداروں، میڈیا ہاؤسز اور نیوز چینلز کو بھی ٹیگ کیا، تاکہ معاملہ عوامی سطح پر اجاگر ہو سکے۔

بعد ازاں مومنہ اقبال نے ایک اور سوشل میڈیا بیان میں این سی سی آئی اے کی جانب سے کارروائی شروع ہونے پر حکام کا شکریہ ادا کیا، تاہم ساتھ ہی اپیل کی کہ جب تک ان کا باضابطہ بیان ریکارڈ نہ ہو جائے، کسی بھی فرد پر الزام عائد نہ کیا جائے۔

اداکارہ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہیں دیگر خواتین کی جانب سے بھی پیغامات موصول ہو رہے ہیں، جن میں اسی سیاسی شخصیت کی جانب سے ہراسانی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور حکام کے مطابق تمام فریقین کے بیانات کی روشنی میں آگے کی قانونی کارروائی کی جائے گی۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں