تحریر: اِشفاق احمد جلبانی
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے بدھ کے روز چین کا سرکاری دورہ مکمل کر کے واپسی اختیار کر لی، جبکہ اس سے چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی بیجنگ پہنچے تھے۔ دونوں رہنماؤں کے دورے رسمی پروٹوکول، شاندار تقاریب اور سفارتی بیانات کے لحاظ سے بظاہر ایک جیسے دکھائی دیے، تاہم فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان میں کئی اہم فرق نمایاں تھے۔
بیجنگ میں استقبال کی نوعیت
دونوں صدور کو چین پہنچنے پر ریڈ کارپٹ استقبال ملا، جبکہ فاصلے پر موجود بچوں نے چینی پرچم لہرا کر خوش آمدید کہا۔ تاہم سفارتی سطح پر نمائندگی کا انداز مختلف رہا۔
سنگاپور کی ننیانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈائلن لوہ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کو 2017 کے مقابلے میں اس بار نسبتاً زیادہ اعلیٰ سطح کی پذیرائی ملی، کیونکہ ان کے استقبال کے لیے نائب صدر ہان ژینگ کو بھیجا گیا۔
دوسری جانب روسی صدر پوتن کے لیے وزیر خارجہ وانگ ای کو ایئرپورٹ پر بھیجا گیا، جنہیں اگرچہ نسبتاً کم درجے کا پروٹوکول سمجھا جا سکتا ہے، لیکن وہ چین کی اعلیٰ سیاسی قیادت کے قریبی حلقے کا حصہ بھی ہیں۔
ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹیٹیوٹ کی ماہر لیزی لی کے مطابق وانگ ای جیسے سینئر سفارتکار کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیجنگ بعض اوقات رسمی درجہ بندی سے ہٹ کر سیاسی پیغام بھی دیتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ صرف ایئرپورٹ پروٹوکول کو بنیاد بنا کر تعلقات کے حقیقی درجے کا اندازہ لگانا درست نہیں ہوتا۔
ابتدائی بیانات میں لہجے کا فرق
چینی صدر شی جن پنگ نے دونوں مہمان رہنماؤں کو “قریبی دوست” اور “عظیم رہنما” قرار دیا، جبکہ صدر پوتن نے شی جن پنگ کو “قریبی دوست” کہتے ہوئے جذباتی انداز میں کہا کہ “ایک دن کی جدائی بھی تین موسموں جیسی محسوس ہوتی ہے۔”
پوتن کے حوالے سے شی جن پنگ نے روس-چین تعلقات کو “غیر متزلزل” قرار دیا اور کہا کہ یہ شراکت داری عالمی انصاف کے توازن میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئے اور تیز رفتار ترقی کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
اس کے برعکس امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ گفتگو میں چینی صدر نے زیادہ محتاط اور سفارتی لہجہ اپنایا۔ انہوں نے دونوں ممالک کو “حریف نہیں بلکہ شراکت دار” کے طور پر دیکھنے پر زور دیا، تاہم ساتھ ہی خبردار کیا کہ تائیوان کا مسئلہ دوطرفہ تعلقات میں شدید تناؤ پیدا کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق روس کے ساتھ چین کے تعلقات نسبتاً زیادہ لچکدار اور قریبی ہیں، جبکہ امریکہ کے ساتھ تعلقات معاشی اور جغرافیائی پیچیدگیوں کے باعث زیادہ حساس ہیں۔
معاہدات اور عملی نتائج
پوتن کے دورے کے دوران دونوں ممالک نے تجارت، توانائی اور میڈیا تعاون سمیت متعدد معاہدوں پر دستخط کیے۔ اس موقع پر روس سے چین تک منگولیا کے راستے مجوزہ گیس پائپ لائن “پاور آف سائبیریا ٹو” کی حمایت بھی کی گئی۔ چین نے روسی شہریوں کے لیے ویزا فری سہولت میں توسیع کا اعلان بھی کیا۔
اس کے مقابلے میں امریکی صدر ٹرمپ کے دورے کے دوران کسی بڑے یا حتمی معاہدے کا اعلان سامنے نہیں آیا۔
ڈائلن لوہ کے مطابق ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات سے کسی بڑی پیش رفت کی توقع پہلے ہی کم تھی، کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات بنیادی طور پر مسابقت اور اختلافات پر مبنی ہیں، جس کے باعث اس دورے کے نتائج بھی محدود رہے۔