بابل جکہرانی: جس نے جیکب آباد میں سومرا خاندان کی سیاست کا صفایا کیا

فہرستِ مضامین

سندھ کے سینئر سیاستدان بابل خان جکرا نی، جو گزشتہ روز انتقال کر گئے، اپنے پیچھے ایک سیاسی وراثت بھی چھوڑ گئے ہیں، جو انہوں نے جیکب آباد میں سومرا خاندان کو سیاست میں شکست دے کر حاصل کی تھی۔

بابل خان، جن کا اصل نام احمد نواز جکرا نی تھا، 21 مارچ 1943 کو گاؤں دادپور، جیکب آباد کے جکرا نی خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ میٹرک پاس تھے، انکے والد انگریز دور میں پولیس انسپیکٹر مگر قبائلی و سماجی حلقوں میں خاصی شہرت رکھتے تھے۔

جیکب آباد روایتی طور پر سیاست میں سومرا خاندان کا گڑھ رہا ہے، جہاں رحیم بخش سومرو، الٰہی بخش سومرو اور محمد میاں سومرو جیسے اہم سیاسی کردار نمایاں رہے۔

بابل خان اور ان کا خاندان سومرا خاندان کے مقابل ایک مضبوط اپوزیشن کے طور پر ابھرا۔ انہوں نے سیاست کا آغاز مقامی حکومتوں سے کیا۔ جیکب آباد میں جکرا نی خاندان کی سیاسی انٹری عرض محمد جکرا نی کے میونسپل چیئرمین بننے سے ہوئی، جس کے بعد میر احمد نواز المعروف بابل خان جکرا نی جیکب آباد کی سیاست پر چھا گئے۔

بابل خان 1988 میں صوبائی حلقہ پی ایس 13 جیکب آباد سے سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، جبکہ 1993 میں قومی حلقہ این اے 156 جیکب آباد سے قومی اسمبلی کے رکن بنے۔ انہوں نے 1990 میں صوبائی اسمبلی اور 1997 میں قومی اسمبلی کے انتخابات میں بھی حصہ لیا، تاہم کامیاب نہ ہو سکے۔ ان کا مقابلہ اکثر محمد میاں سومرو، رحیم بخش کھوسو اور میر منظور پنہور سے رہا۔

میر مرتضیٰ بھٹو کی شہادت کے بعد جب بے نظیر بھٹو کی حکومت برطرف ہوئی اور پیپلز پارٹی کے کئی سینئر رہنما الگ ہو کر پیپلز پارٹی شہید بھٹو میں شامل ہوئے تو بابل خان جکرا نی بھی ان میں شامل تھے۔ انہوں نے 1997 کا الیکشن اسی جماعت کے ٹکٹ پر لڑا مگر کامیاب نہ ہو سکے۔

2002 کے انتخابات میں ان کے بڑے بیٹے اعجاز خان جکرا نی عملی طور پر ان کے سیاسی جانشین بن کر سامنے آئے۔

بابل خان جکرا نی نے دو شادیاں کیں۔ پہلی اہلیہ سے ان کے بڑے بیٹے اعجاز خان جکرا نی ہیں، جبکہ دوسری شادی بگٹی خاندان میں کی، جس سے تین بیٹے ہوئے۔ ان میں سے ایک بیٹا فاروق وفات پا چکا ہے جبکہ دیگر دو بیٹوں کے نام خالد اور آزاد جکرا نی ہیں۔

خاندانی اختلافات کے باعث 2018 کے انتخابات میں بابل خان جکرا نی نے اپنے بیٹے اعجاز خان جکرا نی کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کا اعلان کیا، تاہم بعد میں یہ فیصلہ واپس لے لیا۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کے بھائی محمد بقا جکرا نی کے بیٹے ممتاز جکرا نی کو ٹکٹ دیا جائے، جبکہ اعجاز جکرا نی اس کے مخالف تھے۔

یہ اختلافات اس قدر بڑھ گئے کہ بابل خان جکرا نی نے اپنے بیٹے کے خلاف پریس کانفرنس بھی کی اور ان پر متعدد مقدمات بھی درج کروائے۔

بابل خان جکرا نی بنیادی طور پر ایک سادہ مزاج انسان اور مویشی پالنے کے شوقین تھے، مگر سیاست میں آنے کے بعد وہ جیکب آباد کی سیاست کا ایک بڑا نام بن گئے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ راتوں رات لوگوں کی سیاسی وفاداریاں تبدیل کروانے میں مہارت رکھتے تھے۔

وہ کم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود روایتی طور پر بیلوں کی دوڑ کے شوقین تھے۔ ان کے پاس اعلیٰ نسل کے بیل ہوتے تھے جنہیں وہ مکھن کھلاتے تھے اور ان پر شرطیں بھی لگاتے تھے۔

بابل خان جکرا نی کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ وہ ایک سخی انسان تھے اور ذاتی طور پر کئی غریب خاندانوں کی مدد کیا کرتے تھے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں