پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے نئی پیش رفت نے صوبائی سیاست میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن کو مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کرانے کی یقین دہانی کے بعد کئی برس سے تعطل کا شکار مقامی حکومتوں کے نظام کی بحالی کی امید پیدا ہوگئی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں نئے صوبوں کے قیام، انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی اور آئینی تقسیم سے متعلق بحث بھی زور پکڑ رہی ہے۔ سیاسی اور تجزیاتی حلقے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی ممکنہ پیش رفت کو اسی وسیع تر سیاسی تناظر میں اہم قرار دے رہے ہیں۔
پنجاب میں آخری مرتبہ بلدیاتی انتخابات 2015 میں ہوئے تھے۔ منتخب نمائندوں کی پانچ سالہ مدت 2021 کے آغاز میں مکمل ہوگئی، جس کے بعد صوبہ کئی برس سے مؤثر مقامی نمائندگی سے محروم ہے۔
بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کی بڑی وجوہات میں بار بار قانون سازی، بلدیاتی نظام میں تبدیلی اور نئی حلقہ بندیوں کا عمل شامل رہا ہے۔
تحریک انصاف کے دور میں کیا ہوا؟
تحریک انصاف کی حکومت نے سابق بلدیاتی قانون ختم کرکے نیا نظام متعارف کرایا اور موجودہ بلدیاتی اداروں کو تحلیل کردیا۔ مقامی نمائندوں کی جانب سے اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے بعد سپریم کورٹ نے بلدیاتی اداروں کی بحالی کا حکم دیا۔
تاہم اس کے باوجود انتخابات کا انعقاد نہ ہوسکا اور حکومت کی جانب سے نئی قانون سازی، نظام میں تبدیلی اور حلقہ بندیوں کے معاملات کے باعث انتخابی عمل مسلسل تاخیر کا شکار رہا۔
مسلم لیگ ن کے دور میں بھی انتخابات مؤخر
حکومت کی تبدیلی کے بعد مسلم لیگ ن کی حکومت نے تحریک انصاف کے متعارف کردہ قانون کو منسوخ کرکے نیا بلدیاتی قانون لانے کی کوشش کی۔ نئی قانون سازی کے نتیجے میں الیکشن کمیشن کو دوبارہ حلقہ بندیوں اور دیگر انتظامی مراحل سے گزرنا پڑا۔
2022 اور 2023 کے دوران الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی متعدد کوششیں کیں، تاہم کبھی نئی حلقہ بندیوں اور کبھی نئے بلدیاتی قانون کو بنیاد بنا کر انتخابی عمل آگے بڑھتا رہا۔
سیاسی حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ بلدیاتی قوانین میں تبدیلی کا سلسلہ جاری رہا، جس کے باعث مقامی حکومتوں کے انتخابات کا معاملہ مسلسل التوا کا شکار رہا۔
صوبوں کی بحث نے صورتحال مزید اہم بنا دی
پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کے مطابق پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا حکومت پر دباؤ بڑھ رہا تھا اور انتخابی عمل تکمیل کے قریب پہنچ رہا تھا کہ اسی دوران نئے صوبوں کی تشکیل کی بحث بھی سامنے آگئی۔
ان کے مطابق اگر حکومت بلدیاتی انتخابات سے متعلق کوئی نئی آئینی یا قانونی ترمیم لاتی ہے تو انتخابی عمل ایک مرتبہ پھر متاثر ہوسکتا ہے، کیونکہ ایسی صورت میں حلقہ بندیوں سمیت کئی مراحل نئے سرے سے مکمل کرنا پڑ سکتے ہیں۔
سیاسی جماعتیں نچلی سطح پر اختیارات دینے سے کیوں ہچکچاتی ہیں؟
سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کے مطابق بڑی سیاسی جماعتیں مقامی حکومتوں کو اختیارات اور ترقیاتی فنڈز منتقل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔
ان کا کہنا ہے کہ صوبائی اسمبلی کے ارکان اپنے حلقوں میں ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز پر اپنا اثر برقرار رکھنا چاہتے ہیں، جبکہ بااختیار بلدیاتی نظام کی صورت میں یہ اختیار مقامی نمائندوں کو منتقل ہوسکتا ہے۔
مظہر عباس کے مطابق صوبائی حکومتیں اپنے ترقیاتی منصوبوں کا سیاسی کریڈٹ بھی خود لینا چاہتی ہیں، کیونکہ یہی کارکردگی آئندہ انتخابات میں ان کے سیاسی بیانیے کا حصہ بنتی ہے۔
ان کے مطابق نئے صوبوں کی بحث نے موجودہ صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے، جس کے باعث اب سیاسی جماعتوں پر بلدیاتی انتخابات کرانے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
معاشی مشکلات بھی ایک بڑی وجہ؟
تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے مطابق مسلم لیگ ن کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ہچکچاہٹ کی ایک اہم وجہ معاشی مشکلات اور مہنگائی کے باعث عوامی ردعمل کا خدشہ بھی رہی ہے۔
ان کے مطابق حکومت کو خدشہ تھا کہ معاشی دباؤ کے دوران بلدیاتی انتخابات میں عوامی ناراضی سامنے آئی تو اس کا اثر حکمران جماعت کے مجموعی سیاسی بیانیے پر پڑ سکتا ہے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق بلدیاتی انتخابات سے گریز بھی ایک سیاسی حکمت عملی کا حصہ رہا، تاہم موجودہ حالات میں حکومت کے لیے یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔
ان کے مطابق سیاسی دباؤ کا رخ تبدیل ہونے اور نئے صوبوں کی بحث کے باعث اب حکومت کو بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے فیصلہ کرنا ہوگا۔
پنجاب میں اگر بلدیاتی انتخابات واقعی مرحلہ وار شروع ہوتے ہیں تو یہ کئی برس بعد صوبے میں نچلی سطح پر ایک بڑی سیاسی سرگرمی کا آغاز ہوگا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف مقامی سطح پر نئی سیاسی قیادت سامنے آسکتی ہے بلکہ صوبائی حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کے لیے اختیارات اور ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کا سوال بھی دوبارہ مرکزی اہمیت اختیار کرلے گا۔