امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے حالیہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک اہم اور جرات مندانہ پیش رفت قرار دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے اتوار کو سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں ممالک کے باہمی اتحاد اور اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں مضبوط بنانے کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک کے خلاف جارحیت کو تمام رکن ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاعی صلاحیت، باہمی تعاون اور حملہ روکنے کی استعداد کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
تینوں ممالک نے اجتماعی سلامتی کے فروغ کے ساتھ خطے کے اندر اور باہر امن، سلامتی اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔
شہباز شریف کی صدر ٹرمپ کو خراج تحسین
وزیراعظم شہباز شریف نے مشترکہ دفاعی معاہدے کی حمایت پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی قیادت کو سراہا ہے۔
پیر کو ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر نہ صرف اپنے دفاع بلکہ پورے خطے کے امن و سلامتی کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں کے نتیجے میں جنوبی ایشیا کو ایٹمی تباہی سے بچانے اور لاکھوں جانیں محفوظ رکھنے میں مدد ملی۔
وزیراعظم کے مطابق عوام کا روشن اور خوشحال مستقبل پائیدار امن سے وابستہ ہے، جس کے لیے خطے میں تعاون اور مشترکہ کوششوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔