تحریر: فہمیدہ ریاض
ایک تنظیم، جس نے بجلی کے بل جلانے سے آغاز کیا، ہزاروں لوگوں کو سڑکوں پر لے آئی، حکومت کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا اور پھر وہی تنظیم دہشت گردی کے قانون کے تحت کالعدم قرار دے دی گئی۔
تو آخر جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ہے کیا؟ یہ کیسے وجود میں آئی؟ اس کے مطالبات کیا تھے؟ اور حکومت نے اس پر پابندی کیوں لگائی؟
آئیے پوری کہانی کو سمجھتے ہیں۔
آزاد کشمیر میں گزشتہ چند برسوں سے ایک سوال بار بار سنائی دے رہا تھا۔
“اگر ہماری زمین پر ڈیم ہیں، ہماری وادیوں سے بجلی پیدا ہوتی ہے، تو پھر ہمیں مہنگی بجلی کیوں ملتی ہے؟”
اسی طرح آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، مہنگائی کا طوفان اور حکمران طبقے کی مراعات عوامی غصے کو مسلسل بڑھا رہی تھیں۔
2022 اور 2023 کے دوران راولاکوٹ اور دیگر شہروں میں چھوٹے چھوٹے احتجاج شروع ہوئے۔ لوگ بجلی کے بل نذر آتش کرنے لگے، سرکاری بل جمع کرانے سے انکار کرنے لگے اور مقامی سطح پر دھرنے دیے جانے لگے۔
شروع میں شاید کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہ احتجاج ایک بڑی عوامی تحریک میں تبدیل ہو جائے گا۔
لیکن جب مختلف علاقوں کے مظاہرین کو احساس ہوا کہ الگ الگ احتجاج سے حکومت پر دباؤ نہیں پڑے گا تو تاجروں، ٹرانسپورٹ یونینز، وکلا، طلبا تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے ایک مشترکہ پلیٹ فارم بنانے کا فیصلہ کیا۔
یوں 2023 میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی وجود میں آئی۔
یہ ایک سیاسی جماعت نہیں تھی۔ اس کا دعویٰ تھا کہ یہ عام شہریوں کے معاشی اور سماجی حقوق کی آواز ہے۔
جلد ہی یہ تنظیم آزاد کشمیر کی سب سے طاقتور عوامی تحریکوں میں شمار ہونے لگی۔
اس کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے پورے خطے میں شٹر ڈاؤن ہڑتالیں کروائیں، ٹرانسپورٹ معطل کرائی، کاروبار بند کروائے اور ہزاروں افراد کے لانگ مارچ مظفرآباد کی جانب روانہ کیے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آخر عوامی ایکشن کمیٹی چاہتی کیا تھی؟
کمیٹی کا سب سے بڑا مطالبہ بجلی تھا۔
اس کا مؤقف تھا کہ چونکہ منگلا ڈیم اور دیگر آبی منصوبوں سے بجلی آزاد کشمیر کی سرزمین پر پیدا ہوتی ہے، اس لیے مقامی شہریوں کو بجلی پیداواری لاگت پر ملنی چاہیے، نہ کہ مہنگے نرخوں پر۔
دوسرا بڑا مطالبہ آٹے پر سبسڈی تھا۔
کمیٹی کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے، اس لیے حکومت کو بنیادی خوراک سستے داموں فراہم کرنی چاہیے۔
کمیٹی مطالبہ کر رہی تھی کہ وزرا، اسمبلی اراکین اور اعلیٰ بیوروکریٹس کو ملنے والی مہنگی گاڑیاں، خصوصی مراعات اور اضافی فنڈز ختم کیے جائیں، جبکہ کابینہ کا حجم کم کر کے حکومتی اخراجات میں کمی لائی جائے۔
ایک اور متنازع مطالبہ مہاجرین کی نشستوں سے متعلق تھا۔
کمیٹی کا مؤقف تھا کہ پاکستان میں مقیم 1947 کے مہاجرین کے لیے مخصوص 12 نشستیں آزاد کشمیر کی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہیں اور انہیں ختم کیا جانا چاہیے۔
یہ مطالبہ سیاسی حلقوں میں شدید بحث کا باعث بنا۔
تحریک کے دوران حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان کئی بار مذاکرات بھی ہوئے۔
بعض مطالبات تسلیم کیے گئے، بجلی اور آٹے کے حوالے سے ریلیف پیکجز کا اعلان بھی ہوا، لیکن اس کے باوجود کشیدگی ختم نہ ہو سکی۔
2024 اور 2025 کے دوران کئی احتجاجی مظاہرے تصادم میں بدل گئے۔
مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن میں جانی نقصان بھی ہوا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچا۔
یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سے حکومت اور ایکشن کمیٹی کے تعلقات مزید خراب ہوتے گئے۔
پھر جون 2026 میں ایک ڈرامائی موڑ آیا۔
آزاد کشمیر حکومت نے ایک باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو انسداد دہشت گردی قانون کے تحت کالعدم قرار دے دیا۔
حکومت کا مؤقف تھا کہ کمیٹی کی بعض سرگرمیاں امن و امان کے لیے خطرہ بن رہی تھیں، سرکاری معاملات میں رکاوٹ پیدا کی جا رہی تھی اور معاشرے میں بے چینی اور انتشار پھیل رہا تھا۔
حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کمیٹی انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہی تھی، کیونکہ اس نے ایسے وقت میں پہیہ جام ہڑتال کی کال دی جب انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جا رہے تھے۔
دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی اور اس کے حامی ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک خالص عوامی حقوق کی تحریک تھی، جس کا مقصد مہنگائی، بجلی کے نرخوں اور حکومتی اخراجات کے خلاف آواز اٹھانا تھا۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے آزاد کشمیر کی سیاست، معیشت اور عوامی مباحثے پر گہرا اثر چھوڑا ہے، کیا پابندی سے یہ اثرات زائل ہوسکتے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہی ہے۔