اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے پانی کی ایک ایک بوند ملک کے لیے ریڈ لائن کی حیثیت رکھتی ہے، اگر بھارت نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو پاکستان اسے براہِ راست جواب دینے سے گریز نہیں کرے گا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان جنگ کا خواہاں نہیں بلکہ خطے میں امن اور استحکام چاہتا ہے، تاہم امن کی خواہش کو کمزوری سمجھنے کی غلطی نہیں کی جانی چاہیے۔
اسلام آباد میں معرکۂ حق میں پاکستان کی کامیابی کی یاد میں قائم یادگارِ فتح کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے قوم کو جشنِ آزادی کی مبارکباد دی اور کہا کہ یہ یادگار پاکستان کی مسلح افواج کی کامیابی اور قوم کے عزم کی علامت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ قوم نے معرکۂ حق کے دوران جس اتحاد اور جذبے کا مظاہرہ کیا، اس پر پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔ ان کے مطابق اس کامیابی نے پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند کیا اور دشمن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
شہباز شریف نے فیلڈ مارشل اور افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم نے مشکل وقت میں اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہو کر قومی یکجہتی کی مثال قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ آج پوری قوم کے دلوں میں آزادی اور قومی کامیابی کے جذبات موجزن ہیں۔
پانی کے معاملے پر بھارت کو واضح پیغام
وزیراعظم نے سندھ طاس معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا، تاہم پاکستان اپنے آبی حقوق پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پانی کی ایک ایک بوند ریڈ لائن ہے اور اگر بھارت راہ راست پر نہ آیا تو اسے براہِ راست جواب دیا جائے گا۔
وزیراعظم نے ساتھ ہی واضح کیا کہ پاکستان کسی نئی جنگ کا خواہاں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن چاہتا ہے اور خطے میں استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، لیکن ملک کی سلامتی، خودمختاری اور آبی حقوق کے معاملے پر کسی قسم کی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔
قومی اتحاد کو ملکی طاقت قرار دے دیا
شہباز شریف نے کہا کہ جب قوم متحد ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ پاکستان کے اندر سیاسی اور دیگر اختلافات کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ہم سب کا مشترکہ وطن ہے اور ملک کی ترقی، سلامتی اور استحکام کے لیے تمام طبقات کو متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔
پاکستان خطے میں استحکام کی علامت بن چکا: وزیراعظم
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اب خطے میں استحکام کی علامت بن چکا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ دنیا نئے تنازعات اور جنگوں سے محفوظ رہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان بھی ثالثی اور سفارتی رابطوں میں کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ بھی مکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بن چکا ہے اور یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں امن اور اجتماعی سلامتی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
فلسطین اور کشمیر پر پاکستان کا مؤقف برقرار
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر بھی پاکستان کے واضح مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔
افغانستان کو دہشت گردی روکنے کا مشورہ
وزیراعظم نے افغانستان کی حکومت کو بھی پیغام دیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے امن اور استحکام کے لیے دہشت گردی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
پاک بھارت جنگ بندی میں ٹرمپ کے کردار کا ذکر
وزیراعظم شہباز شریف نے پاک بھارت جنگ بندی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے بروقت جنگ بندی کروا کر لاکھوں انسانی جانوں کو بچانے میں کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور دونوں ممالک باہمی مفاد کے مختلف شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھائیں گے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، تاہم ملکی خودمختاری، قومی سلامتی اور آبی حقوق کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔