خامنہ ای زندہ ہیں، شدید زخمی ہوئے تھے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ

فہرستِ مضامین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ابھی زندہ ہیں، تاہم وہ شدید زخمی ہوئے تھے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ نے ریڈیو انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ مجتبیٰ خامنہ ای ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کے جسم کا بایاں حصہ، بازو اور ٹانگ شدید متاثر ہوئے تھے۔

مجتبیٰ خامنہ ای سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے ہیں۔ وہ فروری کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے، جس کے باعث ان کی صحت اور حکومتی معاملات میں کردار کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں۔

سرکاری طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کو اب بھی ایران کی قیادت کرنے والا شخص قرار دیا جاتا ہے، تاہم ان کی مسلسل غیرموجودگی اور پاسداران انقلاب کے سینئر رہنماؤں کے نمایاں کردار کے باعث یہ سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ آیا وہ حکومت کے امور مکمل طور پر چلا رہے ہیں یا نہیں۔

دوسری جانب ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی دباؤ کو مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوجی اور معاشی دباؤ کے نتیجے میں معاملات ایک بڑی فتح کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی صدر نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ یہ اہم بحری گزرگاہ مکمل طور پر کھلی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اس راستے سے متعدد بحری جہاز گزار رہا ہے اور سمندری بارودی سرنگیں بھی ختم کردی گئی ہیں۔

تاہم ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں کھڑی کیے جانے اور گزرگاہ کو محدود کیے جانے کی اطلاعات کے باعث اس دعوے پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر بھی سخت مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ماضی میں بھی ایسے اقدامات کیے جنہیں امریکہ نے روکا۔

امریکی صدر اس سے قبل بھی ایران کے خلاف فتح کے دعوے کر چکے ہیں، تاہم ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے اور اپنا جوہری مواد امریکہ کے حوالے کرنے پر مجبور کرنے کے حوالے سے صورتحال بدستور پیچیدہ ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں