خلیج میں نئی کشیدگی! یو اے ای کے 2 بحری جہازوں پر حملہ

فہرستِ مضامین

ابوظبی: آبنائے ہرمز میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں متحدہ عرب امارات کی سرکاری توانائی کمپنی ابوظبی نیشنل آئل کمپنی (ADNOC) سے وابستہ دو بحری جہازوں کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اماراتی حکام کے مطابق یہ واقعہ جمعرات 13 اگست کی شام اس وقت پیش آیا جب دونوں جہاز آبنائے ہرمز سے گزر رہے تھے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایرانی حملہ قرار دیا ہے۔ وزارت کے مطابق دونوں بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران نشانہ بنایا گیا، تاہم واقعے میں کسی شخص کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

ADNOC نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے دو بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران حملے کی زد میں آئے۔ کمپنی کے مطابق صورتحال پر قابو پالیا گیا اور عملے کی حفاظت یقینی بنائی گئی۔ حملے سے ہونے والے ممکنہ نقصان یا جہازوں پر موجود سامان سے متعلق تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں لائی گئیں۔

اماراتی وزارت خارجہ نے واقعے کو خطے میں سمندری سلامتی، علاقائی استحکام اور عالمی توانائی کے تحفظ کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ تجارتی بحری جہازوں کو بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں نشانہ بنانا عالمی قوانین اور جہاز رانی کی آزادی کے اصولوں کے منافی ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں پہلے ہی شدید کشیدگی جاری ہے۔ یہ آبی گزرگاہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد بھی معمول سے کم ہوئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ رواں ماہ ADNOC سے منسلک بحری جہازوں کو پیش آنے والے حملوں کے سلسلے کی ایک نئی کڑی ہے۔ اس سے قبل بھی متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اپنے ایک بحری جہاز کو میزائل سے نشانہ بنائے جانے کا الزام عائد کیا تھا، جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

متحدہ عرب امارات نے حالیہ حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی ہے، تاہم ایران کی جانب سے اس تازہ الزام پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ دوسری جانب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے تجارتی جہاز رانی اور عالمی توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

عالمی منڈیوں میں بھی آبنائے ہرمز کی صورتحال کو انتہائی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ اس راستے میں کسی بھی بڑے پیمانے کی رکاوٹ سے خام تیل اور قدرتی گیس کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ حالیہ واقعات کے بعد تیل کی قیمتوں میں بھی اضافے کا رجحان دیکھا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے بحری جہازوں اور توانائی کی تنصیبات کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا، جبکہ موجودہ صورتحال نے آبنائے ہرمز میں محفوظ اور بلا رکاوٹ بین الاقوامی جہاز رانی کی اہمیت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں