ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ تنازع کے دوران ایران نے اپنی دفاعی اور مزاحمتی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا پر واضح کردیا ہے کہ وہ ایک مضبوط اور ناقابلِ شکست طاقت ہے۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے مشکل حالات کے باوجود اپنی مزاحمت جاری رکھی اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ایرانی قوم کسی بھی بڑے دباؤ یا فوجی کارروائی کے سامنے آسانی سے جھکنے والی نہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام بھی اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ ایران نے توقعات کے برعکس غیر معمولی مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ متعدد غیر ملکی حکام نے ایرانی ردعمل کو ’معجزانہ‘ قرار دیا اور اعتراف کیا کہ بہت کم لوگوں کو توقع تھی کہ ایران امریکا کے سامنے اس انداز میں مزاحمت کرنے میں کامیاب ہوگا۔
’دنیا ایران کی طاقت دیکھ کر حیران ہوئی‘
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کو ایک ایسے وقت میں بڑے دباؤ کا سامنا تھا جب امریکا کو اسرائیل سمیت مغربی دنیا اور بعض دیگر ممالک کی حمایت حاصل تھی، اس کے باوجود ایرانی عوام اور ریاست نے اپنا دفاع جاری رکھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال نے عالمی سطح پر ایران کی دفاعی صلاحیت، قومی یکجہتی اور مزاحمت کے حوالے سے ایک مختلف تصویر پیش کی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جو ممالک یہ سمجھ رہے تھے کہ بیرونی دباؤ یا فوجی طاقت کے ذریعے ایران کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے، انہیں صورتحال سے مختلف حقیقت کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے اپنے خلاف موجود دباؤ کے باوجود اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
’کسی کو توقع نہیں تھی کہ ایران اتنی مزاحمت کرے گا‘
عباس عراقچی کے مطابق بعض ممالک کے حکام نے ایرانی قیادت کو بتایا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ ایران اتنے بڑے دباؤ کے باوجود اس سطح پر مزاحمت کرسکے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی مزاحمت نے دنیا کے کئی حلقوں کو حیران کیا اور یہ ثابت کیا کہ کسی ملک کی طاقت کا اندازہ صرف اس کے عسکری وسائل یا عالمی اتحادیوں کی تعداد سے نہیں لگایا جا سکتا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران نے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ وہ اپنے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی حمایت کا حوالہ
عباس عراقچی نے اس موقع پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعاون اور مغربی ممالک کی حمایت کا بھی ذکر کیا۔
ان کے مطابق ایران کے مقابلے میں موجود فریق کو نہ صرف امریکا کی طاقت حاصل تھی بلکہ اسرائیل اور بعض مغربی ممالک کی سیاسی اور دیگر نوعیت کی حمایت بھی حاصل رہی۔
اس کے باوجود، ان کے بقول، ایران نے مزاحمت جاری رکھی اور اپنے دفاع کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے لیے یہ محض ایک فوجی مقابلہ نہیں تھا بلکہ اس میں قومی خودمختاری، علاقائی سلامتی اور ایرانی عوام کے مستقبل کا معاملہ بھی شامل تھا۔
ایران کا مؤقف
ایرانی وزیر خارجہ کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ تہران حالیہ واقعات کو اپنی ایک بڑی سیاسی اور دفاعی کامیابی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
عباس عراقچی نے زور دیا کہ ایران کسی بھی بیرونی طاقت کے دباؤ میں آکر اپنے بنیادی مفادات سے دستبردار نہیں ہوگا اور ملک کی خودمختاری کے دفاع کو ترجیح حاصل رہے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ صورتحال نے ایران کے بارے میں عالمی سطح پر موجود بعض اندازوں کو تبدیل کردیا ہے اور کئی ممالک اب ایرانی صلاحیتوں اور مزاحمتی قوت کو پہلے سے مختلف انداز میں دیکھ رہے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔