ایران نے ایک بار پھر اپنے جوہری پروگرام سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ملک پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو تہران 90 فیصد یورینیم افزودگی کی جانب بڑھ سکتا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے پاس کئی آپشنز موجود ہیں، جن میں 90 فیصد یورینیم افزودگی بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا:
“اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو ہمارے ممکنہ اقدامات میں 90 فیصد افزودگی بھی شامل ہو سکتی ہے، اور پارلیمنٹ میں اس آپشن پر غور جاری ہے۔”
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے اور عالمی طاقتیں تہران کے جوہری پروگرام پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 90 فیصد افزودگی کو ہتھیاروں کے درجے کے قریب سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث اس بیان نے بین الاقوامی سطح پر نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔