اسلام آباد: سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد پاکستان نے واضح کیا ہے کہ مملکت کے خلاف جارحیت کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان سہ فریقی دفاعی معاہدہ فعال ہو سکتا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک پاکستانی نیوز چینل سے گفتگو میں کہا کہ سعودی عرب کے خلاف بلااشتعال جارحیت یا یمن میں جاری تنازع کے پھیلاؤ کی صورت میں دفاعی معاہدے کی شقیں حرکت میں آ سکتی ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان معاہدے کی شرائط و ضوابط کا پابند ہے اور ضرورت پڑنے پر اس کی پاسداری کرے گا۔
وزیر دفاع نے حوثیوں کو خبردار کیا کہ وہ سعودی عرب کو تنازع میں گھسیٹنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا فائدہ نہ اٹھائیں۔ ان کے مطابق ایسے کسی اقدام کے خطرناک نتائج کی ذمہ داری حوثیوں پر عائد ہوگی۔
سعودی شہروں پر ڈرون اور میزائل حملے
اس سے قبل حوثی جنگجوؤں نے سعودی عرب کے مختلف شہروں پر ڈرون اور میزائل حملے کیے۔ رپورٹس کے مطابق ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
حملوں میں سعودی عرب کی شہری اور توانائی سے متعلق تنصیبات کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی دفتر خارجہ نے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں سعودی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ پاکستان نے کہا کہ سعودی عرب کو بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی سرزمین، شہریوں اور قومی اثاثوں کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کا حق حاصل ہے۔
پاکستان کا سفارت کاری پر زور
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا کہ اگرچہ سفارتی عمل تعطل کا شکار ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ رابطے اب بھی برقرار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سفارتی راستے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے اور امید ہے کہ بالآخر سفارت کاری جنگ اور کشیدگی پر غالب آئے گی۔
وزیر دفاع نے اسرائیل پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ خطے میں تنازع جاری رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور موجودہ جنگ سے فائدہ اٹھا رہا ہے، جبکہ اس کی زیادہ تر قیمت دوسرے ممالک ادا کر رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ سفارتی حل کے دروازے ابھی بند نہیں ہوئے۔