اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان اور قطر کی مشترکہ سفارتی کوششوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ معطل مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد بحال کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے نئی تجاویز دونوں ممالک تک پہنچائی تھیں، جن پر واشنگٹن اور تہران نے اپنے اپنے مؤقف سے ثالث ممالک کو آگاہ کر دیا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے اسلام آباد کو یقین دلایا ہے کہ وہ “اسلام آباد میمورنڈم” کے تحت امریکا کے ساتھ جنیوا، دوحا یا اسلام آباد میں مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ مجوزہ مذاکرات میں سب سے پہلے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات ہو، اس کے بعد ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی اور آخر میں اس کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کیے جائیں۔ تاہم تہران نے آبنائے ہرمز میں کسی نئی بحری راہداری کے قیام کی مخالفت کا اعادہ بھی کیا ہے۔
یہ سفارتی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی میں نسبتاً کمی دیکھی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق مسلسل دوسری رات نہ امریکا نے ایران پر کوئی نیا حملہ کیا اور نہ ہی ایران نے خطے میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے بھی تصدیق کی ہے کہ گزشتہ دو راتوں کے دوران امریکا کی جانب سے ایران پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی حکمتِ عملی جوابی کارروائی پر مبنی ہے، اسی لیے امریکی حملے نہ ہونے کی صورت میں ایران نے بھی اپنی فوجی سرگرمیاں روک رکھی ہیں۔
اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب رہتی ہیں تو پاکستان اور قطر کی ثالثی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات بحال کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔