کھیل: ویمنز ایشیا کپ کے فائنل میں سری لنکا کو 72 رنز سے شکست دے کر بھارت نے آٹھویں مرتبہ ایشیا کپ کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا، تاہم ٹرافی کی تقریب تنازع کا شکار ہوگئی۔
کرک انفو کے مطابق دبئی میں کھیلے گئے فائنل کے بعد ٹرافی پیش کرنے کی تقریب تقریباً 50 منٹ تاخیر کا شکار ہوئی۔ ایشین کرکٹ کونسل کے صدر، پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی تقریب میں موجود تھے۔
محسن نقوی نے سری لنکن کھلاڑیوں میں رنر اَپ کے میڈلز تقسیم کیے اور ٹیم کی کپتان چماری اتھاپتھو کو انعامی رقم کا چیک بھی دیا، تاہم بھارتی ٹیم کی جانب سے ٹرافی وصول کرنے کی تقریب میں شرکت نہیں کی گئی۔
اس کے بعد ٹرافی پیش کرنے کی تقریب اچانک ختم کردی گئی، جبکہ اسٹیڈیم سے براہ راست نشر ہونے والی ویڈیو میں بھی بھارتی ٹیم کو اسٹیج پر موجود نہیں دیکھا گیا۔
میچ کے بعد بھارتی ٹیم کے ہیڈ کوچ امول مزومدار سے ٹرافی وصول نہ کرنے کے فیصلے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ بھارتی کرکٹ بورڈ کا مؤقف ہے اور ٹیم اس کے ساتھ کھڑی ہے۔
امول مزومدار کا کہنا تھا کہ ان کے لیے ٹورنامنٹ ختم ہوچکا ہے اور بھارت چیمپیئن ہے، جبکہ اسٹیڈیم کی بڑی اسکرین پر بھی بھارت کو ایشیا کپ 2026 کا چیمپیئن قرار دیا گیا تھا۔
ٹرافی نہ لینے پر سوشل میڈیا پر بحث
بھارتی ٹیم کی جانب سے ٹرافی وصول نہ کرنے کے معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی مختلف ردعمل سامنے آیا۔ بعض بھارتی صارفین نے اسے پاکستان اور محسن نقوی کے خلاف مؤقف قرار دیا، جبکہ پاکستانی صارفین نے محسن نقوی کے مؤقف کو سراہا۔
دوسری جانب کئی کرکٹ شائقین نے کھیل کو سیاسی اختلافات سے دور رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور سوال اٹھایا کہ اگر دونوں ممالک کے کرکٹ عہدیدار ایک ساتھ بیٹھ کر میچ دیکھ سکتے ہیں تو کھلاڑیوں کی ٹرافی وصولی کو سیاسی معاملہ کیوں بنایا گیا؟
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض تصاویر اور ویڈیوز میں بھارتی کرکٹ بورڈ کے عہدیدار، جن میں سیکریٹری دیواجیت سائکیا اور نائب صدر راجیو شکلا شامل ہیں، محسن نقوی کے ساتھ بیٹھے اور گفتگو کرتے دکھائی دیے۔
اسی تناظر میں بعض صارفین نے سوال اٹھایا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے عہدیدار محسن نقوی کے ساتھ بیٹھ کر فائنل دیکھ سکتے ہیں تو بھارتی ٹیم کی جانب سے انہی سے ٹرافی وصول نہ کرنے کی پالیسی کی کیا منطق ہے؟
کچھ صارفین نے اس عمل کو کھیل میں سیاست کی مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن کھیلوں کے مقابلوں میں روایتی اسپورٹس مین اسپرٹ اور باہمی احترام کو برقرار رہنا چاہیے۔
دوسری جانب بھارتی مؤقف کے حامی صارفین کا کہنا ہے کہ ٹرافی وصول نہ کرنا بی سی سی آئی کی پالیسی کا حصہ ہے اور اسے ٹیم کی کامیابی سے الگ کرکے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
یوں ویمنز ایشیا کپ کا فائنل بھارت کی آٹھویں ٹائٹل کامیابی کے ساتھ ساتھ ٹرافی کی تقریب کے باعث بھی موضوعِ بحث بن گیا۔