سعودی عرب کے چار شہر محفوظ قرار، حوثی حملوں کے بعد دوبارہ الرٹس جاری

فہرستِ مضامین

بین الاقوامی: سعودی عرب نے جنوبی علاقوں کے چار شہروں کے لیے جاری کیے گئے ممکنہ خطرے کے انتباہات واپس لے لیے۔ سول ڈیفنس کی جانب سے نجران، خمیس مشیط، جازان اور ابھا کے لیے الرٹس جاری کیے گئے تھے، تاہم بعدازاں ان علاقوں کو محفوظ قرار دے دیا گیا۔

عرب نیوز کے مطابق خمیس مشیط اور ابھا کے لیے دوبارہ وارننگز جاری کی گئیں، جنہیں بعد میں واپس لے لیا گیا۔ یہ پیش رفت یمن میں ایران نواز حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد سامنے آئی ہے، جس سے سعودی عرب کے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

سعودی سول ڈیفنس کے مطابق ہفتے کے روز حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک میزائل جازان کی الطوال گورنریٹ میں گرا، جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے۔ حملے میں ایک مسجد، متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

اس سے چند روز قبل ابھا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں مختلف مقامات پر ہونے والے حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے تھے، ج میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

حوثیوں کے حملوں کی خلیج تعاون کونسل، اسلامی تعاون تنظیم اور متعدد ممالک نے شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

سعودی تیل کی پائپ لائن بھی نشانے پر

سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر حملوں کے علاوہ خطے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ گزشتہ ہفتے عراق سے ڈرون حملوں میں سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں افراد کے زخمی ہونے اور املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

سعودی وزارت توانائی نے احتیاطی اقدام کے طور پر پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کیا اور تکنیکی ماہرین نے نقصان کا جائزہ لینے کے ساتھ اسے محفوظ بنانے کے اقدامات کیے۔

عراق کے وزیراعظم علی الزیدی کی درخواست پر سعودی عرب نے فوری جوابی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ بغداد نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا اور یقین دہانی کرائی کہ اس کی سرزمین اور فضائی حدود دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائیں گی۔

تقریباً ایک ہزار 200 کلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی علاقوں سے خام تیل بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچاتی ہے۔ اس کے ذریعے سعودی عرب آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر عالمی منڈیوں تک تیل برآمد کر سکتا ہے۔

باب المندب کی سکیورٹی پر بھی خدشات

خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث باب المندب کی سکیورٹی پر بھی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ اہم آبی گزرگاہ بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتی ہے۔

یمن کے مغربی ساحل پر حوثیوں کی موجودگی اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر ماضی کے حملوں نے عالمی بحری تجارت کو متاثر کیا ہے۔ کئی بحری جہازوں کو متبادل طویل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے سامان کی ترسیل کے وقت اور اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔

خطے میں جاری تنازع کے باعث تیل کی پیداوار، بحری نقل و حمل اور برآمدی راستوں کو درپیش خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں