تحرير: شکيل سومرو
عوامی تحریک سندھ کی اُن سیاسی جماعتوں میں شمار ہوتی ہے جنہوں نے اپنے قیام سے ہی قومی حقوق، جمہوریت، سماجی انصاف اور وسائل کی منصفانہ تقسیم جیسے بنیادی سوالات پر مسلسل جدوجہد کی۔ اگرچہ رسول بخش پلیجو اس جماعت کے مرکزی رہنما اور صدر رہے، لیکن عوامی تحریک کی شناخت ایک منظم عوامی تحریک کے طور پر بنی، جس میں کسان، طلبہ، خواتین اور مزدور سب شامل تھے۔
اس تحریک کا منشور اور نعرہ “قومی عوامی جمہوری انقلاب” کی عکاسی کرتا رہا۔
سندھ کی قوم پرست اور ترقی پسند سیاست میں عوامی تحریک ایک اہم اور مؤثر تنظیم رہی ہے، جس کی بنیاد 5 مارچ 1970 کو میر علی بخش ٹالپر کی حیدرآباد میں واقع رہائش گاہ پر رکھی گئی۔ بانی اراکین میں فاضل راہو، قاسم پتھر، شیر خان لنڈ اور حفیظ قریشی شامل تھے۔ میر علی بخش ٹالپر پہلے صدر جبکہ رسول بخش پلیجو جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے۔
سندھ کی قومی سیاست میں میر علی بخش ٹالپر کا نام ایک ایسے رہنما کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس نے اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی اصولی مؤقف اختیار کیا اور اس کی قیمت بھی ادا کی۔ وہ نہ صرف عوامی تحریک کے بانی رہنماؤں میں شامل تھے بلکہ ایک سوشلسٹ فکر رکھنے والے، کسانوں کے حامی اور چھوٹی قومیتوں کے حقوق کے مضبوط آواز بھی تھے۔
ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں جب بلوچستان میں عطاء اللہ مینگل کی منتخب حکومت کو برطرف کر کے فوجی آپریشن شروع کیا گیا، اُس وقت میر علی بخش ٹالپر خود حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے رکنِ قومی اسمبلی تھے۔ انہوں نے قومی اسمبلی کے فلور پر کھل کر بلوچستان آپریشن کی مخالفت کی۔
یہ قدم اُن کے سیاسی کیریئر کے لیے خطرناک ثابت ہوا۔ اختلاف کی سزا کے طور پر انہیں گرفتار کیا گیا اور بعد میں انہیں مشہور “عراقی ایمبیسی کیس” میں ملوث قرار دیا گیا۔ اُن پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے روس سے آنے والے ہتھیار خیربخش مری اور دیگر بلوچ رہنماؤں میں تقسیم کیے۔
اس کے بعد انہیں حیدرآباد سازش کیس میں بھی شامل کیا گیا، اور انہوں نے دیگر سیاسی و قومی رہنماؤں کے ساتھ حیدرآباد سینٹرل جیل میں طویل عرصہ گزارا۔
میر علی بخش ٹالپر کا شمار بائیں بازو کے اُن رہنماؤں میں ہوتا تھا جو عملی طور پر مساوات پر یقین رکھتے تھے۔ وہ کولہی اور بھیل برادری کے لوگوں کے ساتھ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا کھانے کو اپنے سیاسی فلسفے کا حصہ سمجھتے تھے۔
ان کے فکری اور ذاتی تعلقات بھی وسیع تھے۔ ان کے قریبی ساتھیوں میں ڈاکٹر ادیب رضوی، معراج محمد خان اور فیض احمد فیض شامل تھے، جبکہ عالمی سطح پر اندرا گاندھی، یاسر عرفات اور جارج حبش جیسے رہنماؤں سے بھی ان کے روابط تھے۔
جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے دور میں بھی میر علی بخش ٹالپر نے جیلوں اور سیاسی دباؤ کا سامنا کیا۔ بعد ازاں انہیں برین ہیمرج ہوا اور علاج کے لیے لندن منتقل کیا گیا، جہاں وہ انتقال کر گئے۔ وہ اپنی زندگی کے آخری لمحے تک عوامی تحریک کے صدر رہے۔
عوامی تحریک بنیادی طور پر بائیں بازو، کسان دوست اور قوم پرست سوچ کی نمائندہ رہی ہے۔ اس نے جی ایم سید کی فکری روایت اور ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی سیاست کے ماحول میں “قومی عوامی جمہوری انقلاب” کا تصور پیش کیا۔
بعد ازاں فاضل راہو صدر اور پلیجو جنرل سیکریٹری بنے، جبکہ حفیظ قریشی بھی جماعت کی قیادت میں شامل رہے۔ جماعت کی نظریاتی تشکیل میں محمد ابراہیم جویو، سلام بخاری اور قادر بخش نظاماڻي جیسی شخصیات نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
آمریت کے خلاف جدوجہد
جنرل ضیاء الحق کے دور میں عوامی تحریک سندھ میں مزاحمتی سیاست کی علامت بن کر ابھری۔ 1979 میں راہوکی کی ہاری کانفرنس اور 1983 کی تحریک بحالی جمہوریت (MRD) میں اس جماعت نے نمایاں کردار ادا کیا۔
اس جدوجہد کے نتیجے میں:
رسول بخش پلیجو اور فاضل راہو کو پانچ پانچ سال قید کی سزائیں ہوئیں
حسین بخش ناریجو سمیت کئی کارکنوں کو سرعام کوڑے مارے گئے
اسی دور میں سندھیاڻي تحریک کی خواتین نے بھی نمایاں مزاحمت کی۔
جيجي زرینہ بلوچ کی بیٹی اور سسئی پلیجو کی والدہ اختر بلوچ سندھیاڻي تحریک اور عوامی تحریک کی ایک بہادر اور باہمت رہنما تھیں۔ انہوں نے اپنی فکری اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے تحریک کو نئی روح اور توانائی بخشی۔
جنرل ضیاء الحق کے آمرانہ دور میں انہوں نے ظلم و جبر کے سامنے جھکنے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ جیلوں کی سختیاں، تنہائی اور تکالیف برداشت کرنے کے باوجود انہوں نے اپنے حوصلے کو کمزور نہیں ہونے دیا۔
انہوں نے اپنے اسیری کے دنوں کو قلمبند کر کے “قیدیانی کی ڈائری” کی صورت میں ایک نادر تاریخی دستاویز چھوڑا۔ یہ ڈائری نہ صرف ان کی ذاتی قربانیوں کا احوال ہے بلکہ خواتین کے سیاسی شعور اور جدوجہد کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
اختر بلوچ نے اپنے عزم، جرأت اور تحریر کے ذریعے سندھ کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔
عالمی سطح پر شناخت
1981 میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عوامی تحریک کی قیادت کو “ضمیر کے قیدی” قرار دیا، جو اس کی جدوجہد کی عالمی سطح پر پہچان تھی۔
عوامی تحریک اور سندھیاڻي تحریک کے پلیٹ فارم سے میر علی بخش ٹالپر، رسول بخش پلیجو، فاضل راہو، حسین بخش ناریجو، شیر خان لنڈ، قاسم پتھر، عالم شاہ، حورالنساء پلیجو، اختر بلوچ، جیجی زرینہ بلوچ، ممتاز نظامانی، مٹھو مہیری، ایاز لطیف پلیجو، سلیمان ڈاہری، دادا قادر رانٹو، صدیق راہو، فوٹو چانگ، جمعہ نوحانی، نور احمد کاتیار، لال جروار، وسند تھری، ڈاکٹر وجی آہوجا، اسماعیل راہو، حریف چانڈیو، اجیت کمار آہوجا، سرتاج چانڈیو، ادریس میرانی، ذوالفقار راجپر، اور زاہدہ شیخ جیسے بے شمار رہنماؤں اور کارکنوں نے جیلوں کی سختیاں برداشت کیں۔
یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے نہ صرف آمریت کے خلاف جدوجہد کی بلکہ سندھ کے قومی، جمہوری اور سماجی حقوق کے لیے قربانیاں دیں۔ ان کی جدوجہد اس بات کی علامت ہے کہ عوامی تحریک اور سندھیاڻي تحریک محض سیاسی پلیٹ فارم نہیں تھے بلکہ ایک مزاحمتی شعور، نظریاتی وابستگی اور اجتماعی جدوجہد کی علامت تھے۔
اے این پی میں شمولیت اور علیحدگی
1980 کی دہائی میں ولی خان کی قیادت میں عوامی نیشنل پارٹی (ANP) بنی، جس میں عوامی تحریک ضم ہوگئی۔ پلیجو جنرل سیکریٹری جبکہ فاضل راہو اور حاکم علی زرداری نائب صدور بنے۔
تاہم 1989 میں بینظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اور غلام احمد بلور کے ایم کیو ایم سے روابط پر اختلافات پیدا ہوئے، جس کے بعد پلیجو نے اے این پی چھوڑ کر دوبارہ عوامی تحریک بحال کی۔
اندرونی اختلافات اور دھڑے بندیاں
وقت کے ساتھ عوامی تحریک سے کئی اہم رہنما مختلف سیاسی اور تنظیمی اختلافات کی بنیاد پر الگ ہوتے گئے۔
ابتدائی طور پر بانی رہنماؤں میں شامل قاسم پتھر اور شیر خان لنڈ نے قیادت سے اختلاف کرتے ہوئے اپنی راہیں جدا کر لیں۔ اسی طرح عوامی تحریک کے صدر رہنے والے حفیظ قریشی بھی بعد میں جماعت سے علیحدہ ہو کر جی ایم سید کی سندھ کی آزادی کی تحریک سے وابستہ ہو گئے۔
1980 کی دہائی کے آغاز میں سینٹرل کمیٹی کے سرگرم رہنما ڈاکٹر عبدالکریم راجپر نے بھی رسول بخش پلیجو سے پالیسی اختلافات کے باعث اپنے ساتھیوں سمیت علیحدگی اختیار کی۔ بعد ازاں وہ میڈیا کے شعبے سے وابستہ ہوئے اور اس وقت سندھ ٹی وی نیٹ ورک کے چیئرمین هين۔ ذرائع بتاتي هين که
شهيد فاضل راہو کے فرزند اسماعیل راہو نے پارٹی میں عہدے سے متعلق اختلاف پر جماعت چھوڑ دی۔ وہ بعد میں مسلم لیگ اور پھر پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور اس وقت سندھ حکومت میں وزیر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔
اسی طرح رسول بخش پلیجو کے بھائی غلام قادر پلیجو اور ان کی بیٹی سسی پلیجو بھی پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔ جبکہ ان کے صاحبزادے ایاز لطیف پلیجو نے الگ ہو کر “قومی عوامی تحریک” قائم کی۔
بعد میں ابرار قاضی، وشنومل، ڈاکٹر سراج سیال، حریف چانڈیو، ڈاکٹر وجی کمار آہوجا، مشتاق راجپر، فیاض نائچ اور دیگر رہنماؤں نے مل کر “عوامی جمہوری پارٹی” کی بنیاد رکھی۔
یہ تمام واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عوامی تحریک کی تاریخ صرف جدوجہد تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں فکری اختلافات، قیادت کے انداز اور تنظیمی فیصلوں کے باعث پیدا ہونے والی تقسیم بھی ایک اہم عنصر رہی ہے۔
عوامی تحریک کی تاریخ میں اندرونی اختلافات اور نظریاتی کشمکش کے کئی اہم مراحل سامنے آئے ہیں، جن میں ایک نمایاں واقعہ سید عالم شاہ اور رسول بخش پليجو کے درمیان پیدا ہونے والا تنازع ہے۔
سید عالم شاہ، جو تقریباً ستر سال تک رسول بخش پليجو کے قریبی سیاسی ساتھی رہے اور عوامی تحریک کی مرکزی قیادت میں بھی مختلف ذمہ داریاں انجام دیتے رہے، بعد ازاں پليجو کی زندگی ہی میں پارٹی سے نکال دیے گئے۔ ان کا مؤقف یہ تھا کہ رسول بخش پليجو کی شخصیت میں ایک خاص قسم کی “نظریاتی انا” موجود تھی۔ ان کے مطابق پليجو اپنے سے زیادہ پڑھے لکھے اور نظریاتی طور پر مضبوط افراد کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، جس کی وجہ سے پارٹی کے اندر اختلافات بڑھتے گئے اور کئی پرانے ساتھی آہستہ آہستہ الگ ہوتے چلے گئے۔
پارٹی سے علیحدگی کے بعد سید عالم شاہ، اياز لطيف پليجو کی قیادت میں قائم ہونے والی قومی عوامی تحریک کے قریب آ گئے، جو بعد میں عوامی تحریک سے الگ ایک سیاسی دھارا کے طور پر سامنے آئی۔
رسول بخش پليجو کی سیاسی زندگی کا ایک اور اہم اور متنازع پہلو ان کے اپنے بیٹے اياز لطيف پليجو کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ رہا۔ کوٹ لکھپت جیل میں قید کے دوران پليجو نے اپنے بیٹے کے نام ایک شکایتی خط لکھا، جو بعد میں “وڳ ڪئين وسريا” کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس خط میں انہوں نے اياز لطيف پليجو کی تنظیمی غیر فعالی اور ذاتی زندگی کو ترجیح دینے کے رویے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا، اور اس معاملے کو انتہائی سخت الفاظ میں بیان کیا۔
تاہم وقت کے ساتھ سیاسی حالات میں تبدیلی آئی، اور وہی رسول بخش پليجو، جو پہلے اپنے بیٹے پر شدید تنقید کرتے رہے تھے، بعد میں انہیں عوامی تحریک کی صدارت کے لیے نامزد بھی کیا۔ اس فیصلے پر پارٹی کے اندر سخت ردعمل سامنے آیا، کیونکہ پليجو ہمیشہ خاندانی یا موروثی سیاست کے سخت مخالف رہے تھے۔
بعد ازاں جب اياز لطيف پليجو نے اپنی الگ سیاسی جماعت “قومی عوامی تحریک” قائم کی اور اسے جی ڈی اے اتحاد میں شامل کیا، تو رسول بخش پليجو نے ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے اياز لطيف پليجو سے سیاسی لاتعلقی کا اعلان کیا اور دوبارہ عوامی تحریک کو منظم کر کے اس کی قیادت سنبھال لی۔
یہ تمام واقعات نہ صرف ایک سیاسی جماعت کی اندرونی تاریخ کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ یہ بھی دکھاتے ہیں کہ نظریاتی سیاست، ذاتی تعلقات اور قیادتی فیصلوں کے درمیان کشمکش کس طرح سیاسی تحریکوں کی سمت اور کردار کو تبدیل کر دیتی ہے۔
انتخابی سیاست اور محدود کامیابی
1988 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہ ہونے کے باعث رسول بخش پلیجو انتخاب ہار گئے۔
بعد میں کالا باغ ڈیم جیسے مسائل پر عوامی تحریک نے بھرپور جدوجہد کی، لیکن انتخابی سیاست میں نمایاں کامیابی حاصل نہ کر سکی۔
عوامی تحریک نے مختلف شعبوں میں ذیلی تنظیمیں قائم کیں:
سندھ ہاری تحریک
سندھ شاگرد تحریک
سندھیاڻي تحریک
سندھ مزدور تحریک
سجاڳ ٻار تحریک
اس ماڈل نے تحریک کو ایک ہمہ گیر عوامی طاقت بنایا، جو صرف انتخابی سیاست تک محدود نہیں رہی۔
سیاسی اور تنظیمی اختلافات کے باوجود، رسول بخش پلیجو کی قیادت میں عوامی تحریک سندھ کی مزاحمتی سیاست، کسان جدوجہد اور قومی حقوق کی تحریک کا ایک اہم باب رہی ہے۔
یہ تحریک اس حقیقت کو بھی واضح کرتی ہے کہ نظریاتی سیاست، ذاتی تعلقات اور عملی سیاست کے درمیان توازن قائم رکھنا کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہوتا ہے۔
عوامي تحريک کی سیاسی جدوجہد میں پارڻي کي ذيلي طلبه تنظيم سندهي شاگرد تحريک ايس ايس ڻي
نے مرکزی کردار ادا کیا، جس نے نوجوانوں میں قومی شعور کو بیدار کیا۔
اس کے ساتھ اسکولي طلباء پر مشتمل ذيلي فرنٽ سجاڳ ٻار تحريک ، سندھي مزدور تحریک اور سندھياڻي تحریک جیسے فرنٹس نے اس جدوجہد کو سماجی وسعت فراہم کی۔ یہ تمام پلیٹ فارم مل کر ایک مضبوط مزاحمتی ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں، جس نے حکومتي اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف مؤثر آواز بلند کی۔
ايس ايس ٽي اور سڄاڳ ٻار تحريک کي مرکزی قیادت میں اياز لطيف پليجو، سليمان ڏاهري، صحبت ٻرڙو ,حريف چانڊيو ,سرتاج چانڊيو ,ميرمظهر ڻالپر, سينئر صحافي فياض نائچ, اور مصطفيٰ سهاڳ جیسے سرگرم رہنما شامل رہے۔ مصطفي سهاگ سندھ حکومت مين سيکريڻري که عهدي سي کچھ برس پهلي ريڻائرڊ هوئي هين . جبکہ سجاگ بار تحریک میں مشتاق راڄپر جو اس وقت آمريکا مين مقيم هين , سينئر صحافي دودو چانڊيو ,سينئر صحافي قادر لاشاري اور سندهي مزدور تحريک مين متحرک رهني والي سينئر صحافي ارباب چانڊيو نے بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
سپريم کورٽ آف پاکستان که معزز جج جسٽس صلاح الدين پنهور ,روشن علي بگهيو بهي عوامي تحريک سي وابسته رهي.
اجیت کمار آہوجا (ایم ڈی سندھ ٹی وی نیٹ ورک)، ڈاکٹر ایوب شیخ (صحافی اور سابق وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر) اور ویرجی کولہی (پیپلز پارٹی حکومت سندھ میں معاونِ خصوصی) بھی ماضی میں سندھ شاگرد تحریک اور عوامی تحریک سے وابستہ رہے ہیں۔
ان رہنماؤں نے نہ صرف طلبہ کو منظم کیا بلکہ تحریک کو ایک واضح نظریاتی سمت بھی دی۔ ان کی قیادت میں طلبہ، مزدور اور دیگر سماجی طبقات ایک مشترکہ جدوجہد کا حصہ بنے۔
یوں سندھ کی قومی اور جمہوری تحریکوں میں نوجوانوں کی شمولیت ایک اہم اور فیصلہ کن عنصر کے طور پر سامنے آئی۔
آخرکار رسول بخش پلیجو کی قیادت میں عوامی تحریک نے یہ ثابت کیا کہ نظریاتی سیاست محض نعروں تک محدود نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔
اس تحریک نے سندھ میں عوامی شعور، مزاحمت اور جمہوری اقدار کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔
اگرچہ داخلی اختلافات اور سیاسی چیلنجز سامنے آتے رہے، مگر اس کی فکری میراث آج بھی زندہ ہے۔
نوجوانوں، طلبہ اور محنت کش طبقات کی شمولیت نے اسے ایک وسیع عوامی تحریک کی شکل دی۔
یہی وجہ ہے کہ عوامی تحریک سندھ کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم اور مؤثر باب کے طور پر یاد کی جاتی رہے