سابق وزیراعظم ہار گئے، ن لیگ نے میدان مار لیا

فہرستِ مضامین

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر پولنگ مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے والے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے واضح برتری حاصل کر لی ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر رہی۔ انتخابی عمل کے دوران بعض حلقوں میں ہنگامہ آرائی، تشدد اور بیلٹ پیپرز جلانے جیسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے، جس کے باعث دو نشستوں کے نتائج تاحال روک دیے گئے ہیں۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) 13 میں سے 9 نشستوں پر آگے ہے، جن میں سے 7 نشستوں پر کامیابی یقینی ہو چکی ہے، جبکہ دو حلقوں میں بھی اسے برتری حاصل ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی 4 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔

الیکشن کمیشن نے اب تک صرف چند حلقوں کے سرکاری نتائج جاری کیے ہیں، جبکہ برنالہ اور سماہنی میں کشیدہ صورتحال اور تکنیکی مسائل کے باعث نتائج کا باضابطہ اعلان مؤخر کر دیا گیا ہے۔

بڑے سیاسی اپ سیٹس

انتخابی نتائج میں کئی اہم سیاسی شخصیات کو غیر متوقع شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سابق وزیراعظم چوہدری انوار الحق اپنے آبائی حلقہ ایل اے 7 بھمبر سے مسلم لیگ (ن) کے چوہدری طارق فاروق کے ہاتھوں شکست کھا گئے۔

اسی طرح پیپلز پارٹی کے صدر چوہدری محمد یاسین کو اپنے روایتی حلقہ چڑھوئی میں مسلم لیگ (ن) کے راجہ ریاست خان نے شکست دی، تاہم وہ کوٹلی سٹی کی نشست سے کامیابی حاصل کر کے اسمبلی پہنچنے میں کامیاب رہے۔

کوٹلی سے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما جاوید اقبال بڈھانوی اور ولید انقلابی بھی اپنی نشستیں برقرار نہ رکھ سکے۔

تشدد، ہنگامہ آرائی اور گرفتاری

پولنگ کے دوران نکیال، بھمبر اور دیگر علاقوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک کارکن جاں بحق ہوگیا۔ واقعے کے بعد پیپلز پارٹی نے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کارکنوں کو پرامن رہنے کی ہدایت کی۔

پولیس نے امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کے الزام میں 24 افراد کو گرفتار کر لیا۔

سماہنی میں بیلٹ پیپرز جلانے کا واقعہ

ایل اے 6 سماہنی میں بیلٹ پیپرز جلائے جانے کے بعد الیکشن کمیشن نے حتمی نتیجہ روک دیا۔ پولیس نے استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار علی شان سونی کو پولنگ اسٹیشن پر حملے اور بیلٹ پیپرز جلانے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے چوہدری محمد رزاق واضح برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔

حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

وفاقی وزراء رانا ثناء اللہ اور امیر مقام نے میرپور ڈویژن کے انتخابات کو آزاد، شفاف اور منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انتخابی نتائج مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ میرپور اور کوٹلی میں عوامی مینڈیٹ چرایا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرحلہ وار انتخابات کا مقصد دھاندلی کرنا تھا اور پیپلز پارٹی اس کے خلاف ہر آئینی و جمہوری فورم پر آواز اٹھائے گی۔

اگلا مرحلہ کب ہوگا؟

آزاد کشمیر اسمبلی انتخابات کا دوسرا مرحلہ 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں پر ہوگا، جبکہ تیسرا اور آخری مرحلہ 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں منعقد کیا جائے گا۔

راولاکوٹ اور میرپور میں بھی کشیدگی

انتخابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ راولاکوٹ میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ کے دوران مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان شدید تصادم ہوا، جس میں 12 سے زائد مظاہرین جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ پولیس کے مطابق اس کے دو اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

ادھر میرپور میں راولاکوٹ کے مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے نکالے گئے جلوس کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے شیلنگ کی، جس کے دوران ایک شہری کے جاں بحق ہونے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

انتخابی نتائج، سیاسی الزامات اور مختلف علاقوں میں کشیدہ صورتحال نے آزاد کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے کو انتہائی اہم اور متنازع بنا دیا ہے، جبکہ اب نظریں دوسرے مرحلے کی پولنگ پر مرکوز ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں