سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو ایران کا سخت ردعمل کا عندیہ

فہرستِ مضامین

ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئیں تو ایران اپنی فوجی حکمتِ عملی مزید جارحانہ بنا سکتا ہے۔

خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے کہا کہ مذاکرات میں تعطل کے باعث ایران کو آئندہ ممکنہ کشیدگی کے لیے مکمل طور پر تیار رہنا ہوگا۔

ان کے مطابق ایرانی اداروں کو خصوصاً آبنائے ہرمز اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاری مکمل رکھنی چاہیے۔

سینئر عہدیدار نے کہا کہ ایران مشکل فیصلے کرنے اور انہیں عملی شکل دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی راستے ناکام ہوگئے تو تہران امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کے لیے بروقت اور درست فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔

ایرانی عہدیدار کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی پہلے ہی بڑھ چکی ہے اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے کسی بھی فوجی اقدام سے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر بڑے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

ایران کے اس تازہ مؤقف سے واضح ہوتا ہے کہ تہران سفارتی حل کا راستہ کھلا رکھنے کے باوجود ممکنہ فوجی تصادم کے لیے بھی اپنی تیاری برقرار رکھے ہوئے ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں