سندھ اسمبلی کی میڈیا گیلری سے: ایوان میں تلخ جملے، طنز اور الزامات

فہرستِ مضامین

تحریر: شبیر لاشاری

سندھ اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے پہلے دن ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے اراکین نے ایک دوسرے پر شدید تنقید کرتے ہوئے ایوان کا ماحول خاصا گرم کر دیا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے ایم پی اے اور سابق ایس ایس پی فاروق اعوان نے ایم کیو ایم کو ماضی کی “دہشت گرد جماعت” قرار دیتے ہوئے سخت ریمارکس دیے۔ اس پر ایم کیو ایم کے رکن نے جواب دیتے ہوئے انہیں طنزیہ انداز میں “سنتری بادشاہ” کہا اور دعویٰ کیا کہ فاروق اعوان نے اپنی آخری ترقی کے لیے اس وقت کے صوبائی وزیر داخلہ روف صدیقی کے پاؤں پکڑ لیے تھے۔

سندھ اسمبلی میں بجٹ بحث کے پہلے دن پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے تقریباً 30 ارکان نے بجٹ پر اپنی آرا پیش کیں۔

پیپلز پارٹی کی ایم پی اے رومہ مٹو نے ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ کا حصہ ہونے کے باوجود ایم کیو ایم کراچی کے لیے کچھ حاصل نہیں کر سکی اور صرف پیپلز پارٹی پر تنقید کرتی رہتی ہے۔

اس پر ایم کیو ایم کے رکن جمال احمد نے جواب دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ تنقید کرنے والی رکن پہلے روز رکشے پر آئیں اور اب ویگو ڈالا استعمال کر رہی ہیں۔

فاروق اعوان نے ایک بار پھر ایم کیو ایم پر الزامات دہراتے ہوئے اسے ماضی کی “دہشت گرد جماعت” قرار دیا اور بلدیہ فیکٹری سانحہ سمیت کئی واقعات کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق ماضی میں “بوری بند لاشیں” بھی اسی دور کی پہچان تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کے تربیتی کیمپس میں سخت اور غیر انسانی طریقے استعمال کیے جاتے تھے۔

اس کے جواب میں ایم کیو ایم کے رکن محمد دلور نے فاروق اعوان کو “سنتری بادشاہ” کہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی آخری ترقی کے لیے اسی وقت کے وزیر روف صدیقی کے پاؤں پکڑے تھے۔

پیپلز پارٹی کے ایم پی اے نواب سردار خان چانڈیو نے اپنے حلقے کے مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 2010 کے سیلاب کے بعد تباہ ہونے والے علاقوں کے سڑکیں آج تک تعمیر نہیں ہو سکیں۔ ان کے مطابق اگر حاملہ خاتون ان سڑکوں سے رکشے پر سفر کرے تو اسے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں بھی پانی کی چوری ہو رہی ہے، اس لیے آبپاشی وزیر کو قمبر شہدادکوٹ کی نہروں کا دورہ کرنا چاہیے اور رینجرز کی مدد سے پانی کی چوری روکی جائے۔

اس سے قبل پیپلز پارٹی کے ایم پی اے ڈاکٹر سہرا‌ب سرکی نے صوبائی وزیر علی حسن زرداری کی تعریف کرتے ہوئے غلطی سے انہیں “وزیراعلیٰ” کہہ دیا۔

اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کی ایم پی اے صائمہ آغا، شازیہ کریم سنگھار اور دیگر ارکان نے بھی ایم کیو ایم پر سخت تنقید کی، جبکہ جواب میں ایم کیو ایم نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔

صبح 10 بجے شروع ہونے والا اجلاس نمازِ جمعہ کے وقفے کے بعد شام ساڑھے 6 بجے تک جاری رہا، جس میں تقریباً 30 ارکان نے اپنی تقاریر کیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں