سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے سندھ میں غیر ملکی امداد سے جاری ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، کراچی کے ماس ٹرانزٹ منصوبوں میں مسلسل تاخیر، اور توانائی کے مختلف منصوبوں میں اربوں روپے کی ریکوری نہ ہونے پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کمیٹی ارکان نے سندھ میں بیرونی فنڈنگ سے مکمل ہونے والے منصوبوں کے شفاف استعمال پر سوالات اٹھائے اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر صوبے میں بڑے پیمانے پر مبینہ کرپشن کی شکایات سامنے آ رہی ہیں تو سندھ حکومت کے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ کو اس پر جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے اقتصادی امور ڈویژن کو ہدایت کی کہ چیف سیکرٹری سندھ کو خط لکھ کر آئندہ اجلاس میں چیئرمین پی اینڈ ڈی کی شرکت یقینی بنائی جائے تاکہ منصوبوں کی تفصیلات اور پیش رفت پر بریفنگ دی جا سکے۔
کمیٹی نے وفاقی وزیر اقتصادی امور کو بھی صورتحال سے آگاہ کرنے کی سفارش کی تاکہ غیر ملکی فنڈڈ منصوبوں میں مبینہ بدعنوانی میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی ممکن بنائی جا سکے اور شفاف نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جا سکے۔
اجلاس میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ اقتصادی امور ڈویژن میں ایک خصوصی مانیٹرنگ ڈیسک قائم کیا جائے جو ٹینڈرنگ کے عمل کی نگرانی کرے، بے ضابطگیوں کے امکانات کم کرے اور ڈونر ایجنسیوں کے تعاون سے جاری منصوبوں کی مؤثر مانیٹرنگ یقینی بنائے۔
کمیٹی نے 765 کے وی داسو اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن منصوبے میں مبینہ طور پر 1.282 ارب روپے کی ریکوری نہ ہونے کے معاملے پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔ اس کیس کو پہلے ہی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی، ایف آئی اے اور نیب کو بھیجنے کی سفارش کی جا چکی ہے۔
ارکانِ کمیٹی نے اس بات پر بھی سخت ردعمل دیا کہ تیسرے کم ترین بولی دہندہ کو کنٹریکٹ دینے میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی سے متعلق سابقہ ہدایات پر تاحال عملدرآمد نہیں کیا گیا۔