تحریر؛ نیاز احمد کھوسہ
سندھ میں پنکی کے بعد ایک دوسرا ہائی پروفائل کیس
منشیات فروشی کے الزام میں 25 دن پہلے برطرف ہونے والے جج زاہد حسین مغیری منشیات کی بڑی مقدار کے ساتھ ٹنڈو محمد خان پولیس کے ہاتھوں گرفتار!
اس کا سارا کریڈٹ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جناب ظفر راجپوت صاحب، سینئر جسٹس جناب اقبال کلھوڑو صاحب، انکوائری افسر جسٹس آغا فیصل صاحب وزیر داخلہ سندھ جناب ضیا لنجار اور آئی جی سندھ جناب جاوید عالم اوڈہو صاحب کو جاتا ہے۔
سابق جوڈیشل مجسٹریٹ زاہد حسین مغیری کی برطرفی اور گرفتاری کا پس منظر !
کچھ عرصہ پہلے گلستان جوہر کی ایک پولیس پکٹ نے چیکنگ کے دوران ایک کار سوار کو روک لیا اور اپنی پولیس چوکی میں بند کرکے زد و کوب کیا !!! کچھ ہی دیر میں کار سوار پیسے دینے پر راضی ہوگیا !!! کار سوار کے پاس کیش نہیں تھا !!! پولیس والے اُسے اے ٹی ایم پر لے گئے اور تین اے ٹی ایم سے کیش نکال کر اپنی جان چھڑائی !!! کار سوار نے جان چھڑنے کے بعد 15 پر اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کی اطلاع کردی اور اُسی وقت اُس وقت کے آئی جی جناب غلام نبی میمن صاحب نے اُس وقت کے اے ایس پی گلشن اقبال معروف میمن کو انکوائری افسر مقرر کردیا !
انکوائری افسر اے ایس پی معروف عثمان نے ایمانداری سے انکوائری کی، اے ٹی ایم سے سی سی ٹی وی ویڈیوز وغیرہ نکلوائیں، جس سے ثابت ہوگیا کہ گلستان جوہر کی پولیس پکٹ پر تعینات پولیس والوں نے کار سوار کو ساتھ لے کر مختلف اے ٹی ایم سے پیسے نکلوائے تھے !!!! انکوائری افسر نے پولیس پکٹ کے ملوث اہلکاروں کے خلاف اغوا اور تاوان وصول کرنے کی دفعات لگا کر اے ٹی سی میں ایف آئی آر درج کردی اور تفتیشی افسر کو پولیس اہلکاروں کی گرفتاری کے لیے بھیج دیا !
ملوث پولیس اہلکاروں کا علاقائی مجسٹریٹ (زاہد حسین مغیری) سے رابطہ تھا، وہ اپنی کارروائیوں سے کچھ حصہ اپنے علاقائی مجسٹریٹ کو دیتے تھے !!! تفتیشی افسر نے جیسے ہی ملوث پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا تو اہلکاروں نے علاقائی مجسٹریٹ (زاہد حسین مغیری) کو فون کر دیا !!!! تفتیشی افسر ملوث پولیس اہلکاروں کو لے کر جیسے تھانے پہنچا، اُس کے ٹھیک تین منٹ بعد علاقائی مجسٹریٹ (زاہد حسین مغیری) تھانے پہنچ گئے اور تفتیشی افسر کو ڈانٹ ڈپٹ کر کے گرفتار پولیس اہلکاروں کو تھانے سے نکال دیا !
تفتیشی افسر اور ایس ایچ او گلستان جوہر نے اے ایس پی معروف عثمان اور ایس ایس پی کو سارا ماجرا بتایا اور یہ بات ہوتے ہوتے آئی جی سندھ جناب غلام نبی میمن صاحب تک چلی گئی ! پولیس افسران کی طرف سے دوبارہ پولیس بھیج کر ملوث پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا !!! ملزم پولیس اہلکاروں نے دوبارہ علاقائی مجسٹریٹ (زاہد حسین مغیری) سے رابطہ کیا تو علاقائی مجسٹریٹ نے ملزمان کو تسلی دی کہ آپ لوگ اطمینان رکھو، رات تھانے میں ہی گزار دو، کل صبح پولیس تم لوگوں کو میرے پاس ہی پیش کرے گی، میں گرفتار کرنے والی پولیس کو اچھی طرح دیکھ لوں گا !
دوسرے دن گلستان جوہر کے تفتیشی افسر نے ملزم پولیس اہلکاروں کو ریمانڈ لینے کے لیے علاقائی مجسٹریٹ (زاہد حسین مغیری) کے پاس پیش کیا !! علاقائی مجسٹریٹ نے تھوڑی ڈانٹ ڈپٹ اور بحث کے بعد گرفتار پولیس اہلکاروں کی ہتھکڑیاں کھلوا دیں اور سب کو 63 سی آر پی سی کے تحت آزاد کردیا !
پولیس نے علاقائی مجسٹریٹ کے آرڈر کو چیلنج کیا اور ساتھ ہی علاقائی مجسٹریٹ (زاہد حسین مغیری) کے خلاف بدانتظامی (Misconduct) سندھ ہائی کورٹ کو بھیج دی !
سندھ ہائی کورٹ کی طرف سے جسٹس آغا فیصل صاحب انکوائری افسر مقرر ہوئے !!! جسٹس آغا فیصل صاحب نے انکوائری کے دوران پایا کہ علاقائی مجسٹریٹ نے بغیر کسی 491 (حبس بیجا کی درخواست) کے تھانے پر چھاپہ مارا تھا !!! عدالتی چھاپے کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ پہلے 491 (حبس بیجا کی درخواست) سیشن جج صاحب کو دی جاتی ہے اور سیشن جج صاحب ایک تحریری حکم کے تحت کسی بھی جوڈیشل مجسٹریٹ کو چھاپے کے لیے مقرر کرتے ہیں، مگر دوران انکوائری ریکارڈ پر ایسی کوئی بھی درخواست یا آرڈر نہیں تھا
انکوائری افسر جسٹس آغا فیصل صاحب نے گلستان جوہر تھانے کی سی سی ٹی وی کی ریکارڈنگ منگوا کر چیک کی تو یہ دیکھا گیا کہ تفتیشی افسر شام سات بجے ملزم پولیس اہلکاروں کو پولیس موبائل میں لے کر تھانے میں داخل ہو رہا ہے اور ٹھیک سات بج کر تین منٹ پر علاقائی مجسٹریٹ کی کار تھانے میں داخل ہو رہی ہے !
اسی بنیاد پر الزامات ثابت ہونے پر 21 اپریل کو سینئر جسٹس اقبال کلھوڑو صاحب کی سفارش پر چیف جسٹس جناب ظفر راجپوت صاحب نے سول جج زاہد حسین مغیری کو برطرف کردیا۔
سابق سول جج زاہد حسین مغیری کی منشیات کے ساتھ گرفتاری کا پس منظر !
ٹنڈو محمد خان کی پولیس پکٹ نے کل 14 مئی 2026 کو ایک موٹر سائیکل پر دو سواروں منیر ملاح اور بلاول سومرو کو منشیات کے ساتھ گرفتار کیا !!! تھانے پر جب ملزمان سے پوچھ گچھ کی گئی تو ملزمان نے بتایا کہ وہ منشیات کراچی کے ایک ڈیلر زاہد سے لیتے ہیں !!! تو پولیس نے ملزمان سے کہا کہ کیا تم لوگ ڈیلر کو مزید مال سپلائی کا آرڈر دے کر بلا سکتے ہو؟ تو ملزمان نے ڈیلر زاہد کو فون کیا کہ ہمیں مزید منشیات ٹنڈو محمد خان پہنچا دیں (یہاں تک پولیس کو کوئی علم نہیں تھا کہ زاہد کون ہے)۔
زاہد کراچی سے منشیات لے کر نکلتا ہے اور فون پر منیر ملاح کو اطلاع دے دیتا ہے کہ میں سفید رنگ کی یارس کار میں آ رہا ہوں !!!! پولیس فون لوکیشن کے ذریعے زاہد کو ٹریس کرتی رہی کہ کار کہاں تک پہنچی ہے۔ شام 04:30 پر سفید رنگ کی یارس کار کو پکٹ پر روکا جاتا ہے اور زاہد اپنا تعارف ایک سول جج کا کراتا ہے !!! پولیس نے اس کے باوجود کار کی تلاشی لی !! کار سے منشیات برآمد ہوتی ہے !
پولیس زاہد کو منشیات اور کار سمیت تھانے لے آتی ہے، وہاں پہلے سے موجود ملزمان سے زاہد کو ملوایا جاتا ہے اور پولیس اب تک یہ سمجھتی رہی کہ زاہد سول جج ہونے کے بارے میں جھوٹ بول رہا ہے !!! اس کے بعد ہائی کورٹ سے زاہد کے سول جج کے آئی ڈی کارڈ کی تصدیق واٹس ایپ پر کروائی جاتی ہے، جہاں سے پتہ چلتا ہے کہ زاہد حسین مغیری سول جج تھا جو اپریل میں برطرف ہوچکا ہے !! بعد میں پولیس نے اُس کے خلاف تین ایف آئی آر درج کی ہیں۔ یہ ہوتا ہے مکافات عمل، اور اسی کو کہتے ہیں خدا کی بے آواز لاٹھی کی پکڑ۔
اللہ پاک نے فرشتوں سے کہا ہوگا میں نے اس کو کس کام کیلئے متخب کیا ہے اور شیطان نے اس کو کس کام سے لگا دیا ہے
عدلیہ کے اتنے بڑے اور معزز عہدے پر فائز ہونے کے باوجود، زاہد حسین مغیری چوروں اور ڈاکوؤں کی پشت پناہی کر رہا تھا۔ لیکن اللہ پاک کی گرفت بہت ہی نرالی ہے — پہلے اسے گلستان جوہر والے واقعے میں بے نقاب کر کے پھنسایا، جہاں اس نے تاوان لینے والے پولیس اہلکاروں کو چھڑایا تھا۔ اور پھر اسے ٹنڈو محمد خان میں منشیات کے ساتھ پکڑوایا۔ ہم سب کو توبہ کرنی چاہیئے اور اللہ پاک کے غضب اور ناراضگی سے ڈرنا چاہیئے !
زاہد حسین مغیری اصل میں لاڑکانہ کا رہنے والا ہے، اور فی الحال کراچی کے گلستان جوہر، بلاک نمبر 13 کے ایک فلیٹ میں رہتا ہے۔
میری آئی جی سندھ صاحب سے درخواست ہے کہ زاہد حسین مغیری کا کیس پنکی کے کیس سے زیادہ اہم ہے۔
پنکی کے کیس میں ایس ایچ او نے سارے سینئرز کو بائی پاس کر کے خود فیصلے لیے اور اے این ایف کا ملبہ اپنے سر لے لیا۔
اس کیس کی تفتیش Transparent طریقے سے سارے متعلقہ اداروں کی JIT بنا کر کی جائے۔ اور خاص طور پر چیف جسٹس صاحب سندھ کو Request کی جائے کہ وہ بھی عدلیہ کے کسی سینئر نمائندے کو JIT ممبر ہونے کے لیے نامزد کریں، تاکہ اس کیس کی تفتیش صاف اور شفاف طریقے سے ہو سکے۔
پولیس زاہد کو منشیات اور کار سمیت تھانے لے آتی ہے، وہاں پہلے سے موجود ملزمان سے زاہد کو ملوایا جاتا ہے اور پولیس اب تک یہ سمجھتی رہی کہ زاہد سول جج ہونے کے بارے میں جھوٹ بول رہا ہے !!! اس کے بعد ہائی کورٹ سے زاہد کے سول جج کے آئی ڈی کارڈ کی تصدیق واٹس ایپ پر کروائی جاتی ہے، جہاں سے پتہ چلتا ہے کہ زاہد حسین مغیری سول جج تھا جو اپریل میں برطرف ہوچکا ہے !! بعد میں پولیس نے اُس کے خلاف تین ایف آئی آر درج کی ہیں۔ یہ ہوتا ہے مکافات عمل، اور اسی کو کہتے ہیں خدا کی بے آواز لاٹھی کی پکڑ۔
عدلیہ کے اتنے بڑے اور معزز عہدے پر فائز ہونے کے باوجود، زاہد حسین مغیری چوروں اور ڈاکوؤں کی پشت پناہی کر رہا تھا۔ لیکن اللہ پاک کی گرفت بہت ہی نرالی ہے — پہلے اسے گلستان جوہر والے واقعے میں بے نقاب کر کے پھنسایا، جہاں اس نے تاوان لینے والے پولیس اہلکاروں کو چھڑایا تھا۔ اور پھر اسے ٹنڈو محمد خان میں منشیات کے ساتھ پکڑوایا۔ ہم سب کو توبہ کرنی چاہیئے اور اللہ پاک کے غضب اور ناراضگی سے ڈرنا چاہیئے !!!!