عمران خان کی اسپتال منتقلی کیوں روکی گئی؟ رانا ثنا اللہ نے وجہ بتادی

فہرستِ مضامین

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کیا ہے اور اب 16 ستمبر کو عدالت جو فیصلہ کرے گی، حکومت اس پر عمل کرے گی۔

سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت سمیت سپریم کورٹ اور تمام عدالتیں بھی آئین کے تابع ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی سینیٹر علی ظفر کے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی رکن کو خود عدالت بننے کے بجائے عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔

شفا اسپتال منتقلی کا فیصلہ کیوں بدلا؟

رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم وہاں سکیورٹی کے حوالے سے مسائل سامنے آئے اور امن و امان کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ تھا، جس کے باعث آخری وقت میں فیصلہ تبدیل کرکے انہیں سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا۔

ان کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے میں سکیورٹی سے متعلق انتظامیہ کو فیصلہ کرنے کا اختیار بھی دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور انتظامیہ عدالت کے سامنے شواہد پیش کریں گے کہ شفا اسپتال کے باہر اس وقت کیا صورتحال تھی اور کیوں سکیورٹی خدشات پیدا ہوئے۔

عمران خان کا طبی معائنہ کیا گیا، رانا ثنا اللہ

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا ماہر ڈاکٹروں نے طبی معائنہ کیا اور انہیں صحت مند قرار دیا گیا۔

ان کے بقول حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد کیا گیا، تاہم حتمی فیصلہ عدالت ہی کرے گی کہ حکم پر مکمل عمل ہوا یا اس میں کوئی کمی رہ گئی۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 16 ستمبر کو عدالت جو فیصلہ دے گی، حکومت اس پر عمل کرے گی۔

عدالتی ہدایات کی خلاف ورزی کا الزام

رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق معلومات میڈیا کے سامنے نہ لانے کی ہدایت کی تھی، تاہم اس کے باوجود عمران خان کی صحت کے حوالے سے پریس کانفرنس کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی پیغام دینا تھا تو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو خاموشی سے بتایا جاسکتا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں