“معاہدہ ہوگا، مگر زخم نہیں بھولیں گے”؛ ایران کا امریکا اور اسرائیل کو دوٹوک پیغام

فہرستِ مضامین

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے دستخطی طریقہ کار کو آئندہ ایک دو روز میں حتمی شکل دی جائے گی، جس کے بعد باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ ان کے مطابق معاہدے پر دستخط کی تقریب جمعے کو جنیوا میں متوقع ہے، جبکہ اس سے قبل ایرانی حکام خطے کے چند ہمسایہ ممالک کے دورے بھی کریں گے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ مجوزہ معاہدے میں خطے کے استحکام اور سکیورٹی کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان کے خلاف تمام عسکری کارروائیاں بند ہونی چاہئیں اور اس کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی حاکمیت کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نکات مفاہمتی یادداشت کے بنیادی اجزا میں شامل ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ ایران، عمان اور دیگر علاقائی شراکت داروں کے تعاون سے آبنائے ہرمز کو محفوظ بحری گزرگاہ بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کرے گا۔ اس مقصد کے تحت مخصوص مدت کے لیے میری ٹائم سروس فیس بھی نافذ کی جائے گی، جس کا اطلاق معاہدے میں طے شدہ ذمہ داریوں اور شرائط کے مطابق ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے معاہدے کے تحت ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور نقصانات کے ازالے سے متعلق وعدے کیے ہیں، جن پر عمل درآمد واشنگٹن کی ذمہ داری ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ منجمد اثاثے ایران کی ملکیت ہیں اور امریکا ان رقوم کو بطور امداد یا ادائیگی پیش نہیں کر رہا بلکہ ایران کے جائز مالی حقوق بحال کیے جائیں گے۔ بقائی نے زور دیا کہ ایران کو تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات کی مکمل آزادی ملنی چاہیے، بصورت دیگر امریکا کو ایرانی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جوہری پروگرام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امریکا ماضی میں ایران سے افزودہ یورینیم منتقل کرنے کی کوشش کر چکا ہے اور اس کے نتائج دنیا کے سامنے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی معاہدے کا مطلب یہ نہیں کہ ایران اپنے خلاف ہونے والی کارروائیوں کو بھلا دے گا۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایرانی قوم اسرائیل اور امریکا کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق ایران نے ان تنازعات میں اپنی اعلیٰ قیادت اور متعدد اہم شخصیات کو کھویا، تاہم عوام اپنی قیادت کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ انہوں نے عالمی اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تنظیمیں ایران کے خلاف امریکی اور صیہونی جارحیت کی مؤثر مذمت کرنے میں ناکام رہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا واقعی تعلقات میں بہتری چاہتا ہے تو اسے ایرانی عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے طویل اور سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے، کیونکہ اعتماد کا فقدان دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے بڑا چیلنج ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں