مودی حکومت کیوں پیچھے ہٹ گئی؟ اصل کہانی سامنے آگئی

فہرستِ مضامین

بھارت میں صرف چند ہفتے قبل سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں وجود میں آنے والی نوجوانوں کی تنظیم “کاکروچ جنتا پارٹی (CJP)” نے وہ کر دکھایا جو گزشتہ ایک دہائی میں بڑی بڑی اپوزیشن جماعتیں بھی نہ کر سکیں۔ طلبہ کے احتجاجی دباؤ کے بعد بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوگئے، جسے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے ایک غیر معمولی سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

گزشتہ کئی روز سے ہزاروں طلبہ اور نوجوان نئی دہلی کے جنتر منتر پر سراپا احتجاج تھے۔ مظاہرین کا الزام تھا کہ میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کے داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا، جبکہ حکومت اس معاملے میں جوابدہی سے گریز کر رہی تھی۔ ان کا سب سے بڑا مطالبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ تھا، کیونکہ امتحانی اسکینڈل ان ہی کے دورِ وزارت میں سامنے آیا۔

ہفتے کے روز دھرمیندر پردھان کے استعفے کی خبر سامنے آتے ہی جنتر منتر جشن کا منظر پیش کرنے لگا۔ نوجوان سڑکوں پر نکل آئے، قومی پرچم لہراتے ہوئے رقص اور نعرے بازی کی، جبکہ سوشل میڈیا پر اسے “نوجوانوں کی جیت” اور “احتساب کی فتح” قرار دیا گیا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی بار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو عوامی دباؤ کے سامنے واضح پسپائی اختیار کرنا پڑی ہے۔ اس سے قبل کسان تحریک، شہریت قانون کے خلاف احتجاج اور نوٹ بندی جیسے بڑے عوامی مظاہروں کے باوجود حکومت اپنے مؤقف پر قائم رہی تھی، لیکن اس بار نوجوانوں کی منظم مہم حکومت کے لیے زیادہ مشکل ثابت ہوئی۔

سوشل میڈیا نے احتجاج کو قومی تحریک بنا دیا

مرکزی میڈیا کی محدود کوریج کے باوجود طلبہ نے انسٹاگرام، ایکس، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر احتجاج کی لمحہ بہ لمحہ ویڈیوز، میمز اور طنزیہ مواد شیئر کیا، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے اس تحریک کو ملک گیر بحث میں تبدیل کر دیا۔

20 جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا، مگر اس کے باوجود احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔ بعد ازاں کچھ مظاہرین نے وزیرِ تعلیم کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نریندر مودی سے بھی استعفے کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا۔

بے روزگاری نے نوجوانوں کا غصہ بڑھا دیا

بھارت دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادی رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں 15 سے 29 سال کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ افراد موجود ہیں۔ تاہم حالیہ رپورٹس کے مطابق 25 سال یا اس سے کم عمر کے تقریباً 40 فیصد گریجویٹس بے روزگار ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امتحانی پرچہ لیک ہونے کا معاملہ دراصل نوجوانوں میں پہلے سے موجود بے روزگاری، میرٹ کے فقدان اور حکومتی کارکردگی سے متعلق ناراضی کا اظہار بن گیا، جس نے احتجاج کو ایک وسیع عوامی تحریک کی شکل دے دی۔

مودی حکومت کے لیے نئی آزمائش

سیاسی ماہر راہول ورما کے مطابق یہ احتجاج دیگر تحریکوں سے مختلف تھا کیونکہ یہ کسی نظریاتی یا سیاسی مسئلے کے بجائے حکومتی انتظامی ناکامی کے خلاف تھا، جس کا جواب حکومت کے لیے دینا نسبتاً مشکل ثابت ہوا۔

اگرچہ وزیراعظم نریندر مودی اب بھی ملک کے مقبول ترین رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں اور 2024 کے انتخابات میں مسلسل تیسری بار اقتدار حاصل کر چکے ہیں، تاہم کم پارلیمانی اکثریت کے باعث نوجوان ووٹروں کی ناراضی حکومت کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتی ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

احتجاجی قیادت نے حکومت کی جانب سے دیگر مطالبات پر غور کی یقین دہانی کے بعد فی الحال دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جن میں امتحانی اسکینڈل سے متاثرہ طلبہ کے خاندانوں کے لیے معاوضہ بھی شامل ہے۔

تاہم کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے واضح اشارہ دیا ہے کہ یہ صرف ایک احتجاج نہیں بلکہ ایک طویل سیاسی اور سماجی مہم کا آغاز ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت کی نئی نسل اسی طرح منظم رہی تو یہ تحریک مستقبل میں ملک کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں