اسلام آباد: قومی اسمبلی نے ’نیشنل کمانڈ اتھارٹی (ترمیمی) بل 2026‘ اور ’پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026‘ کثرتِ رائے سے منظور کرلیا، جبکہ اپوزیشن نے قانون سازی کے عمل کے خلاف احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
حکومت نے دونوں بلز قومی اسمبلی میں سپلیمنٹری ایجنڈے کے طور پر پیش کیے۔ قانون سازی کے وقت وزیراعظم شہباز شریف بھی ایوان میں موجود تھے اور انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی۔
نئے قانون کے ذریعے پاکستان کے عسکری کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن کا مقصد تینوں مسلح افواج کے درمیان مشترکہ آپریشنل صلاحیت اور رابطہ مزید مضبوط بنانا ہے۔
چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا کردار
نئے عسکری فریم ورک کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) کو ملک کی تمام مسلح افواج کی آپریشنل کمانڈ اور کنٹرول کا مرکزی اختیار حاصل ہوگا۔
چیف آف ڈیفنس فورسز بری، بحری اور فضائی افواج کے درمیان آپریشنل رابطے، مشترکہ حکمتِ عملی اور کثیر الجہتی انضمام کی نگرانی کریں گے۔
قانون کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کمانڈ اینڈ کنٹرول سے متعلق امور میں وفاقی حکومت کو جوابدہ ہوں گے اور قومی سلامتی و دفاعی حکمتِ عملی کے معاملات میں وزیراعظم کے اعلیٰ ترین فوجی مشیر کے طور پر بھی کردار ادا کریں گے۔
افسران اور اہلکاروں سے متعلق اختیارات
نئے قانون میں چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کے افسران اور اہلکاروں سے متعلق وسیع انتظامی اختیارات بھی دیے گئے ہیں۔
آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت مخصوص تقرریوں کے علاوہ سی ڈی ایف کو اہلکاروں کی ریٹائرمنٹ، برطرفی یا ملازمت سے سبکدوشی کے فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
وہ کسی اہلکار کا استعفیٰ منظور یا مسترد کرنے کے علاوہ اسے سروس میں برقرار رکھنے اور ریٹائرمنٹ کی عمر یا ملازمت کی مدت سے متعلق فیصلے بھی کرسکیں گے۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم
نئے فریم ورک کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کرکے کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کا نیا منصب قائم کیا گیا ہے۔
اس فور اسٹار کمانڈر کی تقرری وزیراعظم، آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر تین سال کی مدت کے لیے کریں گے۔ سی ڈی ایف کی سفارش پر وزیراعظم اس تقرری میں مزید تین سال کی توسیع بھی کرسکیں گے۔
قانون کے مطابق اس تقرری، دوبارہ تقرری یا توسیع کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔
دفاعی افواج کا نیا ہیڈکوارٹر
ایکٹ کے تحت دفاعی افواج کا مرکزی ہیڈکوارٹر بھی قائم کیا جائے گا، جو براہِ راست چیف آف ڈیفنس فورسز کی کمان میں کام کرے گا۔
یہ ادارہ قومی سلامتی، دفاعی پالیسی، حکمتِ عملی اور مسلح افواج سے متعلق اہم معاملات میں وزیراعظم کو عسکری مشاورت فراہم کرے گا۔
نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں بھی ترامیم
قانون سازی کے تحت نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں بھی ترامیم کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے متعلقہ قوانین میں سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے متعلق حوالہ جات اور شقیں بھی حذف کردی گئی ہیں۔
قانون کا نفاذ
’پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026‘ کا نام دیا گیا ہے، تاہم اس کے مؤثر نفاذ کی تاریخ 13 نومبر 2025 مقرر کی گئی ہے۔
قانون کے تحت بنائے گئے احکامات، قواعد اور ہدایات کو دیگر مروجہ قوانین پر فوقیت حاصل ہوگی، تاہم پہلے سے موجود آرمی، نیوی، ایئر فورس اور کنٹونمنٹس سے متعلق قوانین بھی برقرار رہیں گے، بشرطیکہ وہ نئے قانون سے متصادم نہ ہوں۔
نئے قانون کے ذریعے مجموعی طور پر پاکستان کے اعلیٰ عسکری کمانڈ سٹرکچر کو ازسرِنو ترتیب دیتے ہوئے چیف آف ڈیفنس فورسز کو تینوں مسلح افواج کے آپریشنل نظام میں مرکزی کردار سونپا گیا ہے۔