اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو امریکا کے دورے پر روانہ ہو گئے ہیں، جہاں وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایک اہم ملاقات میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تازہ خفیہ معلومات شیئر کریں گے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو اپنے ہمراہ حساس انٹیلی جنس رپورٹس لے کر جا رہے ہیں، جن میں ایران کی مبینہ جوہری پیش رفت سے متعلق نئے شواہد شامل ہیں۔
اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ نیتن یاہو امریکی صدر کو ایران کے ایٹمی عزائم پر تازہ ترین انٹیلی جنس بریفنگ دیں گے اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران اسرائیلی وزیرِ اعظم لبنان اور شام سے اسرائیلی افواج کے انخلا سے متعلق امریکی مؤقف پر اپنے تحفظات بھی سامنے رکھیں گے۔ اس کے علاوہ وہ ٹرمپ سے درخواست کریں گے کہ ترکیہ کو جدید F-35 جنگی طیاروں کی فروخت کی اجازت نہ دی جائے۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی بدستور عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ نیتن یاہو نے واشنگٹن روانگی سے قبل اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ موجودہ حالات غیر معمولی نوعیت کے ہیں، اس لیے ہر فیصلہ انتہائی احتیاط اور دانشمندی سے کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں ایران اولین ترجیح ہوگا، جبکہ اسرائیل کی سلامتی کو مضبوط بنانے اور خطے میں امن کے امکانات بڑھانے پر بھی گفتگو کی جائے گی۔
امریکی صدر کے دوبارہ منصب سنبھالنے کے بعد نیتن یاہو اور ٹرمپ کی یہ آٹھویں ملاقات ہوگی۔ دونوں رہنماؤں کی آخری ملاقات رواں سال فروری میں ہوئی تھی، جس کے کچھ ہی عرصے بعد ایران کے خلاف مشترکہ امریکی اور اسرائیلی فضائی کارروائیاں سامنے آئی تھیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس دورے کو غیر معمولی سکیورٹی اقدامات کے تحت مکمل رازداری میں رکھا گیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ نیتن یاہو کے طیارے میں روایتی طور پر صحافیوں کو بھی ساتھ نہیں لے جایا گیا، جبکہ ان کے دفتر نے پرواز کے وقت، راستے اور لینڈنگ سے متعلق معلومات بھی عوام سے پوشیدہ رکھیں۔
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس کے مطابق سرکاری طیارے نے اس بار معمول کے بن گوریان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے بجائے نیواتیم ایئر بیس سے اڑان بھری، جسے سکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔