تہران ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب (IRGC) نے واضح پیغام دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب کسی بھی جنگی جہاز کی آمد کو وہ جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی سمجھے گا۔
فارس نیوز ایجنسی نے پاسداران کا بیان شائع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے:
“کوئی بھی فوجی بحری جہاز کسی بھی بہانے آبنائے کے قریب آیا تو اسے سخت سزا دی جائے گی۔”
تاہم بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ آبنائے سویلین جہازوں کے لیے خصوصی ضوابط کے تحت مکمل طور پر کھلا ہے۔
امریکی طرف سے پچھلے بیانات
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی شروع کرے گا اور کسی بھی ایرانی حملے پر فوری جواب دیا جائے گا۔
نائب صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے کیونکہ ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی امریکی شرائط قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
وینس نے پاکستان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
“ہم نے بہت لچک دکھائی، مگر ایران نے ہماری حتمی پیشکش مسترد کر دی۔”
اختلافات کی جڑیں
نیویارک ٹائمز اور ایکسس کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان بنیادی اختلافات یہ تھے:
– ایران کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا مطالبہ
– افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبرداری کا انکار
ایرانی ردعمل
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا:
“امریکہ مذاکرات کے دوران ہمارا اعتماد حاصل نہیں کر سکا۔”
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے زور دے کر کہا کہ امن معاہدے کی کامیابی کا دارومدار واشنگٹن کے “غیر ضروری اور غیر قانونی مطالبات” سے گریز پر ہے۔
تجزیہ کاروں کا نقطہ نظر
جنگ سے پہلے تہران کو خدشہ تھا کہ آبنائے کی بندش سے نئی پابندیاں لگیں گی۔ حملے کے بعد ایران نے اپنے بحری جہازوں کے علاوہ باقی سب کے لیے آبنائے تقریباً بند کر دی۔
ماہرین اس پالیسی کو کم لاگت اور موثر قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ ڈرونز، میزائلوں اور چھوٹی کشتیوں پر مبنی ہے۔ آبنائے کو طاقت سے دوبارہ کھولنے کے لیے بڑا فوجی آپریشن اور طویل قبضے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
نیویارک ٹائمز کا سخت تجزیہ
اخبار لکھتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس نہ تو تیل کی قیمتوں میں اضافے کا کوئی منصوبہ تھا اور نہ ہی ایران کے افزودہ یورینیم کو محفوظ بنانے کی کوئی حکمت عملی۔
ٹرمپ نے اچانک “جنگ بندی” کی طرف رخ کیا لیکن ان کے اعلان کردہ اہداف میں سے کوئی خاص حاصل نہیں ہوا۔
اب ایران اب بھی آبنائے ہرمز کے ذریعے ٹریفک محدود رکھے ہوئے ہے، جس کی وجہ سے امریکہ اسٹریٹجک طور پر شرمناک صورتحال کا شکار ہے۔
ٹرمپ کا تازہ انٹرویو
اتوار کو فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران، امریکہ اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات “انتہائی دوستانہ” تھے اور واشنگٹن نے وہ سب کچھ حاصل کر لیا جو چاہتا تھا — سوائے ایران کے ایٹمی پروگرام چھوڑنے کے۔
انہوں نے کہا:
“آخری مراحل میں ماحول بہت اچھا ہو گیا تھا۔ میرے لیے ایٹمی مسئلہ سب سے اہم تھا۔”
ٹرمپ نے پرانی دھمکیوں کا دفاع بھی کیا اور نئی تنبیہ جاری کی:
“اگر ایران نے ایٹمی پروگرام نہ چھوڑا تو ہم ان کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائیں گے۔ آدھے دن میں ان کا کوئی پل، کوئی پاور پلانٹ باقی نہیں رہے گا — وہ پتھر کے زمانے میں واپس چلے جائیں گے۔”