امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین اور روس کو ایران کو ہتھیار فراہم کرنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ دونوں ممالک نے اب تک ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ ایران کے معاملے پر جن دو بڑے ممالک کا نام لیا جا رہا ہے، ان کے بارے میں ان کا ماننا ہے کہ وہ اس معاملے میں شامل نہیں۔ تاہم اگر ایسا ہوا تو یہ ان دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ہوگا اور ان کے مفاد میں بھی نہیں ہوگا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا میں رپورٹس گردش کر رہی ہیں کہ واشنگٹن اس امکان کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا روس اور چین امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے بعد ایران کو حساس یا انٹیلی جنس معلومات فراہم کر رہے ہیں یا نہیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے مئی میں بیجنگ میں ہونے والی ملاقات کے دوران انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ چین کسی بھی صورت ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق، دونوں ممالک کے تعلقات کو دیکھتے ہوئے وہ اس یقین دہانی پر اعتماد کرتے ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین نے بھی انہیں ایسی ہی یقین دہانی کرائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ براہِ راست یوکرین کو ہتھیار فروخت نہیں کرتے بلکہ نیٹو ممالک کو فروخت کیے جاتے ہیں، جبکہ ان ہتھیاروں کی بعد ازاں تقسیم کے بارے میں انہیں معلومات نہیں۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ امریکی حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور حالیہ کارروائیوں میں ایرانی فوجی اور بحری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق حملوں میں پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ کمانڈ سینٹرز، ڈرون گودام، مواصلاتی نظام اور بحری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔
ادھر ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق حالیہ فضائی حملوں میں متعدد صوبوں میں کم از کم چار افراد جاں بحق جبکہ کئی زخمی ہوئے ہیں۔ بندر عباس، جزیرہ قشم اور بحرِ کیسپین کے ساحلی علاقوں سمیت مختلف اہم مقامات پر دھماکوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔