چین کا نیا عالمی AI اتحاد: شی جن پنگ نے WAICO لانچ کر دیا، کیا امریکہ کی برتری کو چیلنج مل گیا؟

فہرستِ مضامین

چین کے صدر شی جن پنگ نے مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں عالمی تعاون پر زور دیتے ہوئے ایک نئے بین الاقوامی اتحاد ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، بیجنگ اس اتحاد کے ذریعے عالمی سطح پر AI سے متعلق قوانین اور پالیسیوں پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے، جسے امریکہ کے لیے ایک بڑا سفارتی اور تکنیکی چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔

شی جن پنگ کا پیغام

شنگھائی میں منعقد ہونے والی ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کسی ایک ملک کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے بلکہ تمام ممالک کو مل کر اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اوپن سورس AI ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک تاریخی موقع ہے اور چین افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے ممالک کے ساتھ AI کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے تعاون جاری رکھے گا تاکہ نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے دنیا میں نئی ناانصافیاں پیدا نہ ہوں۔

شی جن پنگ نے زور دیا کہ AI کی ترقی بین الاقوامی تعاون کی علامت ہونی چاہیے، نہ کہ کسی ایک ملک کی طاقت کا مظاہرہ۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے نام پر AI کے شعبے میں غیر ضروری پابندیاں لگانے یا کسی ایک ملک کے مفاد کو دوسروں پر ترجیح دینے کی مخالفت کی جانی چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مصنوعی ذہانت ہمیشہ انسان کے کنٹرول میں رہنی چاہیے، جس کے لیے مؤثر قوانین، نگرانی، ابتدائی وارننگ سسٹمز اور ہنگامی ردعمل کے نظام ضروری ہیں۔

WAICO کیا ہے؟

چین نے 16 جولائی کو باضابطہ طور پر ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) قائم کی، اگرچہ عالمی AI اتحاد بنانے کا منصوبہ گزشتہ برس ہی سامنے آ گیا تھا۔

اس تنظیم کا مقصد مختلف ممالک کے درمیان AI کے شعبے میں تعاون بڑھانا، محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا اور مشترکہ ضابطہ کار تیار کرنا ہے۔

اس کا صدر دفتر شنگھائی میں قائم ہوگا جبکہ ابتدائی طور پر 29 ممالک اس کے بانی ارکان ہیں، جن میں پاکستان، روس، برازیل، انڈونیشیا، ملائیشیا، جنوبی افریقہ اور سینیگال سمیت کئی ترقی پذیر ممالک شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی اس اعلیٰ سطحی تقریب میں شریک ہوئے۔

امریکہ اور چین کے درمیان AI مقابلہ

چین اور امریکہ اس وقت مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی میں عالمی برتری حاصل کرنے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کی تکنیکی پیش رفت کو اپنے مفادات کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

چین نے گزشتہ چند برسوں میں چپ سازی، ڈیٹا سینٹرز، AI ماڈلز اور توانائی کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے، جبکہ امریکہ نے قومی سلامتی کے خدشات کے تحت چین پر جدید سیمی کنڈکٹرز اور ٹیکنالوجی کی برآمدات پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

اس کے جواب میں چین نے بھی امریکی کمپنیوں کو اہم معدنیات اور دوہری استعمال کی ٹیکنالوجی کی برآمد محدود کر دی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان “چِپ وار” مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

چین کو برتری کیوں حاصل ہے؟

ماہرین کے مطابق اگرچہ جدید ترین سیمی کنڈکٹرز تک رسائی میں امریکہ اب بھی آگے ہے، لیکن چین کے پاس AI ماڈلز کو چلانے کے لیے درکار بڑے ڈیٹا سینٹرز، سستی بجلی اور نایاب معدنیات کی فراوانی موجود ہے۔

چین اس وقت امریکہ کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ بجلی پیدا کر رہا ہے، جس سے AI کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اسے نمایاں فائدہ حاصل ہے۔

عالمی قوانین پر اثر انداز ہونے کی کوشش

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ WAICO صرف ایک تکنیکی اتحاد نہیں بلکہ چین کی عالمی سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس اتحاد کے ذریعے بیجنگ اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں میں AI سے متعلق قوانین اور ضابطوں کی تشکیل میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

چینی وزیراعظم لی چیانگ نے پہلی بار جولائی 2025 میں WAICO کا تصور پیش کیا تھا۔ ماہرین کے مطابق چین اب صرف AI ٹیکنالوجی برآمد کرنے کے بجائے عالمی AI گورننس کے اصول بھی اپنے نقطہ نظر کے مطابق تشکیل دینا چاہتا ہے۔

گورننس امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب امریکہ عالمی سائبر اور AI پالیسی سازی میں نسبتاً پیچھے ہٹ رہا ہے تو چین اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو AI کے عالمی رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، خصوصاً ترقی پذیر ممالک کی حمایت کے ذریعے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں