بلوچستان کے علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں ہونے والے خوفناک دھماکے کے بعد ریسکیو آپریشن مسلسل جاری ہے، جہاں اب تک 34 کان کنوں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ مزید مزدوروں کی تلاش جاری ہے۔
حکام کے مطابق یہ حادثہ کوئٹہ سے تقریباً 40 کلومیٹر مشرق میں واقع کوئلے کی کان میں پیش آیا۔ دھماکے کے وقت کان کے اندر کم از کم 36 کان کن موجود تھے، تاہم ابتدائی اطلاعات میں کان کے متاثرہ حصے میں 40 کے قریب افراد کے موجود ہونے کا بھی بتایا گیا تھا۔
چیف انسپکٹر آف مائنز محمد عاطف کے مطابق کان میں میتھین گیس بھرنے سے دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں کان منہدم ہوگئی۔ امدادی ٹیمیں تقریباً چار ہزار فٹ گہرائی میں پھنسے مزدوروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں، اگرچہ زندہ بچ جانے والوں کی امید انتہائی کم بتائی جا رہی ہے۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ حادثے میں متاثر ہونے والے زیادہ تر کان کنوں کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ اور دیگر علاقوں سے ہے۔
صوبائی وزیر برائے معدنیات میر شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ دشوار حالات کے باوجود ریسکیو ٹیمیں آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں اور کان میں پھنسے تمام مزدوروں تک رسائی کے لیے ہر ممکن وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جاں بحق کان کنوں کے لواحقین کو فی کس پانچ لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو فی کس تین لاکھ روپے مالی امداد دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے محکمہ مائنز اینڈ منرلز سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور شفاف تحقیقات کے ذریعے حادثے کی وجوہات اور ذمہ داروں کے تعین کی ہدایت کی ہے۔
واضح رہے کہ سورینج بلوچستان کا اہم کوئلہ پیدا کرنے والا علاقہ ہے، جہاں اب بھی کان کنی کے روایتی اور پرانے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، جس کے باعث ایسے جان لیوا حادثات بارہا رونما ہوتے رہتے ہیں۔