امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ممکنہ ایرانی حملے کے خدشے کے باعث انتہائی خفیہ انداز میں ایک دوسرے فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا تھا۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ ابتدا میں میڈیا کے کیمروں کے سامنے معمول کے مطابق ایئر فورس ون میں سوار ہوئے، تاہم بعد میں انہیں ہوائی اڈے پر موجود ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے ایک نسبتاً چھوٹے فوجی طیارے سی 32 اے تک پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس خفیہ منتقلی سے ایئر فورس ون میں موجود صحافی بھی لاعلم رہے اور وائٹ ہاؤس کے بعض اہلکاروں کو بھی صدر کے طیارہ تبدیل کرنے کا علم نہیں تھا۔
ایرانی میزائل حملے کا خدشہ
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی حکام کو ایران کی جانب سے ٹرمپ کے طیارے کو ممکنہ میزائل حملے کا نشانہ بنائے جانے کی قابلِ اعتبار اطلاع موصول ہوئی تھی۔
تاہم وائٹ ہاؤس نے اب تک ٹرمپ کو خفیہ طور پر دوسرے طیارے میں منتقل کیے جانے کی رپورٹ کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
ٹرمپ نے نیٹو اجلاس کے دوران انقرہ میں گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ ایران کی جانب سے انہیں ’نمبر ون ہدف‘ قرار دیا گیا ہے۔
کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے منتقلی
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق 8 جولائی کو سامنے آنے والی ویڈیوز میں ٹرمپ کو انقرہ ایئرپورٹ پر صدارتی طیارے میں سوار ہوتے دیکھا گیا تھا۔ تاہم بعد میں انہیں ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے سی 32 اے طیارے تک پہنچایا گیا۔
یہ طیارہ بوئنگ 757 کا تبدیل شدہ ورژن ہے اور عموماً امریکی نائب صدر کے سفر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ کیٹرنگ ٹرک کو طیارے کے دروازے کی سطح تک بلند کیا گیا، جس کے ذریعے ٹرمپ کو اس مقام سے سی 32 اے میں منتقل کیا گیا جہاں وہ عوام اور میڈیا کی نظروں سے محفوظ رہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ بھی الگ راستے سے سی 32 اے میں سوار ہوئے۔ انہوں نے بیرونی سیڑھیوں کا استعمال کیا تاکہ صدر کی منتقلی کا کوئی غیر معمولی تاثر پیدا نہ ہو۔
صحافیوں کو پردے بند رکھنے کی ہدایت
رپورٹ کے مطابق متعدد صحافی اور وائٹ ہاؤس کے کچھ اہلکار پہلے ہی ایئر فورس ون میں سوار ہو چکے تھے۔ انہیں مبینہ طور پر طیارے کی کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت کی گئی۔
ان افراد کو اس وقت تک معلوم نہیں تھا کہ صدر ٹرمپ اس طیارے سے منتقل ہو چکے ہیں۔
بعد ازاں ٹرمپ برطانیہ روانہ ہوئے اور وہاں پہنچنے کے بعد دوبارہ ایئر فورس ون میں سوار ہوئے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہیں سی 32 اے سے واپس روایتی صدارتی طیارے تک کس طرح منتقل کیا گیا۔
ٹرمپ نے خطرے کا اعتراف کیا
بعد میں امریکہ واپسی کے سفر کے دوران ٹرمپ نے اپنے ساتھ موجود صحافیوں سے گفتگو میں ایران سے لاحق خطرات کا ذکر کیا، تاہم مبینہ خفیہ طیارہ تبدیلی کے آپریشن کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ ترکی سے روانگی کے وقت صحافیوں کو طیارے کی کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت کیوں دی گئی، تو ٹرمپ نے کہا کہ اس کی وجہ ان لوگوں سے لاحق خطرہ تھا جن سے امریکہ کو نمٹنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جان کو ’ہر وقت خطرات لاحق رہتے ہیں‘ اور ایران کی مبینہ فہرست میں وہ ’نمبر ون ہدف‘ ہیں۔
ٹرمپ نے قدرے مزاحیہ انداز میں صحافیوں سے یہ بھی کہا کہ اگر ان کے ساتھ کچھ ہو گیا تو وہ بھی ساتھ ہوں گے، اور شاید انہیں کسی دن اپنا پیشہ تبدیل کرنے پر غور کرنا چاہیے۔
وائٹ ہاؤس کا محتاط مؤقف
وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشنز ڈائریکٹر سٹیون چیونگ نے صدر کے طیارے کی مبینہ خفیہ تبدیلی کی براہِ راست تصدیق یا تردید نہیں کی۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ نیا ایئر فورس ون جدید ترین سکیورٹی ٹیکنالوجی سے لیس ہے اور صدر و ان کے عملے کے تحفظ کے لیے اس میں جدید حفاظتی انتظامات موجود ہیں۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ادارے پہلے بھی خبردار کر چکے تھے کہ ٹرمپ یا ان کے زیرِ استعمال طیارے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
نئے ایئر فورس ون پر سکیورٹی سوالات
اس معاملے نے قطر کی جانب سے فراہم کیے گئے نئے بوئنگ 747-8 طیارے کی سکیورٹی پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی سابقہ رپورٹ کے مطابق سیکرٹ سروس نے نیٹو اجلاس سے واپسی کے دوران ٹرمپ کو اپنا طیارہ تبدیل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ اس کے بعد اس معاملے سے متعلق خفیہ معلومات کے مبینہ اخراج کی تحقیقات بھی شروع کی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق تقریباً 400 ملین ڈالر مالیت کے اس بوئنگ 747-8 کو صدارتی استعمال کے لیے تیار کرنے کی خاطر کئی ماہ تک اس میں مختلف تبدیلیاں اور حفاظتی اپ گریڈز کیے گئے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق پرانے ایئر فورس ون طیاروں میں ایسی لیزر ٹیکنالوجی موجود ہے جو آنے والے میزائلوں کو گمراہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ قطر کی جانب سے فراہم کیے گئے نئے طیارے میں بھی اسی نوعیت کے دفاعی نظام نصب ہیں یا نہیں۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق نیا ایئر فورس ون صدر کے سفر کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے، تاہم موسمِ خزاں میں اس میں مزید حفاظتی اپ گریڈز کیے جائیں گے، جن کی تکمیل میں تقریباً ایک ماہ لگ سکتا ہے۔