گھوٹکی کی سیاست میں نئی ہلچل: روحانی ملاقات یا سیاسی اشارہ؟

فہرستِ مضامین

گھوٹکی کی سیاست میں نئی ہلچل: پیر پگاڑا کی باری پتافی کے فارم ہاؤس آمد — روحانی ملاقات یا سیاسی اشارہ؟
گھوٹکی ضلع کی سیاست میں اس وقت غیرمعمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی جب حر جماعت کے روحانی پیشوا اور پیپلز پارٹی مخالف اتحاد کے سربراہ Pir Pagara نے میرپور ماتھیلو کا رخ کیا اور براہِ راست سابق صوبائی وزیر Abdul Bari Pitafi کے فارم ہاؤس پہنچ گئے۔ یہ محض ایک رسمی یا روایتی ملاقات نہیں تھی بلکہ ایک ایسی پیش رفت تھی جس نے گھوٹکی کی سیاسی فضا میں کئی نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
ملاقات یا سیاسی پیغام؟
پیر پگاڑا کی آمد کے موقع پر عبدالباری پتافی کی جانب سے شاندار استقبال، مشترکہ نشستیں اور “دعاؤں کے لیے ہاتھ اٹھانے” جیسے مناظر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئے۔ سیاسی حلقے اس عمل کو محض روحانی روایت نہیں بلکہ ایک اہم علامتی سیاسی اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
پیر پگاڑا کے الفاظ بھی خاصے معنی خیز تھے:
“عبدالباری خان، آپ روح کے آدمی ہیں، آپ کو دعوت دوں گا، آپ میرے پاس آئیں گے، ہم رات گزاریں گے اور محفلیں سجائیں گے۔”
یہ جملہ بظاہر مہمان نوازی کا اظہار ہے، مگر اس میں ایک واضح سیاسی قربت کا پہلو بھی جھلکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے اندر دباؤ اور اختلافات
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گھوٹکی میں Pakistan Peoples Party کے اندر گروپ بندی عروج پر ہے۔
عبدالباری پتافی کو اپنی ہی جماعت کے اندر مزاحمت کا سامنا
لنڈ اور مہر گروپ کے ساتھ کشیدگی
2024 کے انتخابات میں شکست
حریف امیدوار Nadir Akmal Laghari کا بعد میں پیپلز پارٹی میں شامل ہونا
یہ تمام عوامل پتافی کو سیاسی طور پر دباؤ میں لاتے ہیں اور انہیں کسی متبادل سیاسی راستے کی تلاش پر مجبور بھی کر سکتے ہیں۔
فنکشنل لیگ اور جی ڈی اے کی سرگرمیاں
دوسری جانب Pakistan مسلم لیگ (Functional) اور جی ڈی اے بھی متحرک نظر آ رہے ہیں۔
Sadruddin Shah Rashdi کراچی میں سرگرم
پیر پگاڑا کے صاحبزادے Syed Muhammad Rashid Shah Rashdi اور Muazzam Ali Abbasi اسلام آباد میں سیاسی رابطے بڑھا رہے ہیں
یہ تمام سرگرمیاں اس بات کا عندیہ دیتی ہیں کہ فنکشنل لیگ خود کو دوبارہ منظم اور فعال بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
گھوٹکی: وفاداریاں بدلنے کی سیاست
گھوٹکی کی سیاست کی ایک نمایاں پہچان سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی رہی ہے۔
مہر، لنڈ، شر، دھاریجو، بوزدار اور دیگر بڑے نام مختلف ادوار میں جماعتیں تبدیل کرتے رہے ہیں
مرحوم Ali Muhammad Mahar نے بھی ایک مرحلے پر پارٹی ٹکٹ واپس کر کے آزاد حیثیت میں کامیابی حاصل کی اور بعد میں وزیرِ اعلیٰ سندھ بنے
Jam Mehtab Hussain Dahar اور Nadir Akmal Laghari جیسے رہنما بھی آزاد حیثیت میں کامیابی کے بعد پیپلز پارٹی میں شامل ہوتے رہے
اس پس منظر میں اگر عبدالباری پتافی کوئی نیا سیاسی فیصلہ کرتے ہیں تو یہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہوگی۔
کیا باری پتافی پارٹی چھوڑ دیں گے؟
اب سب سے اہم سوال یہی ہے:
👉 کیا عبدالباری پتافی پیپلز پارٹی کو خیرباد کہہ دیں گے؟
ممکنہ عوامل:
پیر پگاڑا سے بڑھتی قربت
پارٹی کے اندر اختلافات
سیاسی تنہائی
تاہم حتمی فیصلہ وقت ہی کرے گا کہ آیا یہ عوامل انہیں واقعی پارٹی چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں یا نہیں۔
نتیجہ: نئی صف بندی کا آغاز؟
پیر پگاڑا کی عبدالباری پتافی کے ہاں آمد محض ایک ملاقات نہیں بلکہ گھوٹکی کی سیاست میں ممکنہ نئی صف بندی کا آغاز دکھائی دیتی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ:
کیا یہ روحانی ملاقات ایک باقاعدہ سیاسی اتحاد میں بدلتی ہے؟
یا پھر یہ صرف پیپلز پارٹی کے اندر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی ایک حکمت عملی ہے؟
فی الحال گھوٹکی میں سیاسی “کھچڑی” پکنا شروع ہو چکی ہے—
اور آنے والے مہینوں میں یہ سیاست یقیناً ایک نیا رخ اختیار کر سکتی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں