یوکرین کا روس پر بڑا ڈرون حملہ، 800 سے زائد ڈرون مار گرانے کا روسی دعویٰ

فہرستِ مضامین

روس نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے رات کے دوران ملک کے مختلف علاقوں پر سیکڑوں ڈرونز سے بڑا فضائی حملہ کیا، جس میں روسی فضائی دفاع نے 800 سے زائد ڈرونز کو تباہ یا ناکارہ بنا دیا۔ روسی حکام کے مطابق حملوں میں کم از کم 6 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

روسی سرکاری خبر رساں ادارے تاس کے مطابق یہ رواں سال یوکرین کی جانب سے روس پر کیا جانے والا سب سے بڑا ڈرون حملہ ہے۔ حملوں کا ایک بڑا حصہ ماسکو کے اطراف میں کیا گیا، جہاں روسی اشرافیہ کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے۔

ماسکو کے گورنر آندرے ووروبیوف کے مطابق فضائی دفاعی نظام اور الیکٹرانک وارفیئر یونٹس نے ماسکو کے علاقے میں 187 ڈرونز کو مار گرایا یا ناکارہ بنایا۔ علاقے میں واقع وائلڈ بیریز کے ایک بڑے گودام میں ڈرون حملے کے بعد شدید آگ بھڑک اٹھی، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

روسی حکام کے مطابق ماسکو کے علاوہ ملک کے 17 مختلف علاقوں میں ڈرونز کو روکا گیا، جن میں زیادہ تر جنوبی اور مغربی روس کے علاقے شامل ہیں۔ ماسکو کے علاقے میں ایک 83 سالہ شخص بھی ڈرون حملے میں ہلاک ہوا۔

جنوبی روس کے علاقے روستوف کے گورنر نے بتایا کہ وہاں ہونے والے حملوں میں 5 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

یوکرین پر روسی حملے بھی جاری

دوسری جانب روس کی جانب سے یوکرین کے مختلف شہروں پر میزائل اور ڈرون حملے بھی جاری ہیں۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے مطابق اتوار کی صبح ہونے والے حملوں میں 6 افراد زخمی ہوئے۔

زیلنسکی کے مطابق وسطی یوکرین کے کریمنچک اور کریوی ریح کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جہاں 2 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ شمالی علاقے سومی میں بھی ایک شخص مارا گیا۔

یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس کی جانب سے رات بھر داغے گئے بیلسٹک میزائلوں میں سے کوئی بھی مار گرایا نہیں جاسکا، جس سے یوکرین کو فضائی دفاعی انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی کا ایک بار پھر سامنا نمایاں ہوگیا ہے۔

زیلنسکی کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران روس نے یوکرین پر 1,550 سے زائد حملہ آور ڈرونز، تقریباً 1,560 گائیڈڈ بم اور 62 میزائل داغے۔

یوکرینی صدر نے یورپی ممالک سے فضائی دفاعی انٹرسیپٹرز فوری طور پر فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان ہتھیاروں کو ذخیرہ کرکے نہیں رکھا جاسکتا بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے انہیں استعمال میں لانا ضروری ہے۔

رومانیہ کی فضائی حدود میں بھی ڈرون داخل

ادھر رومانیہ کی وزارت دفاع کے مطابق اتوار کو ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک نامعلوم ڈرون کو مار گرایا گیا۔ ڈرون کو نیٹو کے فضائی نگرانی مشن پر مامور اسپین کے ایف-18 جنگی طیارے نے نشانہ بنایا۔

رومانیہ کے مطابق رواں سال اس کی فضائی حدود میں مار گرایا جانے والا یہ چوتھا ڈرون ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریڈار نے ڈرون کو پڑوسی ملک مالدووا کی سمت سے رومانیہ میں داخل ہوتے ہوئے پکڑا تھا، جبکہ اس کے ملبے کے ایک غیر آباد علاقے میں گرنے کی اطلاعات ہیں۔

رومانیہ کی وزارت دفاع کے مطابق جولائی میں بھی روسی ڈرونز نے ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی، جس کے بعد رومانیہ کے ایف-16 جنگی طیاروں نے 3 ڈرونز مار گرائے تھے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں