پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے پنجاب میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور اراکین اسمبلی کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لانگ مارچ مقررہ تاریخ پر ہی ہوگا، جبکہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے کارکنوں کو ضروری ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پنجاب میں اسٹریٹ موومنٹ پر پابندی کے باوجود لوگ احتجاج کے لیے باہر نکلے۔ ان کے بقول وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور اراکین اسمبلی کے ساتھ اختیار کیا جانے والا رویہ قابلِ مذمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو گاڑی میں بٹھا کر کسی چوک پر چھوڑ دینا انتہائی نامناسب عمل ہے۔ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کو دوسرے صوبے میں جانے پر مہمان نوازی اور احترام ملنا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ لانگ مارچ طے شدہ تاریخ پر ہی ہوگا۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے لوگوں کو مارچ سے متعلق ہدایات دے دی گئی ہیں۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے سپریم کورٹ اور آئینی عدالت میں ہونے والی سماعت پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتیں ایک دوسرے کو مقدمات بھیج رہی ہیں، ایسا فیصلہ تو پنچایت بھی کرسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک قوت بن کر ابھرا ہے، تاہم اب معاشی استحکام بھی ضروری ہے۔ معاشی استحکام اسی وقت آئے گا جب ملک میں سب کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کوئی شوقیہ مارچ نہیں کررہی بلکہ یہ انصاف مارچ ہے۔ ان کے مطابق احتجاج پُرامن ہوگا، راستے بند نہیں کیے جائیں گے اور اشتعال پھیلانے سے گریز کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کارکن نہتے ہوں گے اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان سے ملاقاتوں کے حوالے سے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ملاقاتیں ہوئی ہیں، تاہم انہیں لانگ مارچ کی دعوت نہیں دی گئی۔ ان کے بقول ملاقاتوں کا مقصد حکومت کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں جواب دہ بنانا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی لیوی اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے آواز اٹھا رہی ہے، پی ٹی آئی اس معاملے پر ان کے ساتھ ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پنجاب کے اراکین اسمبلی نے سخت حالات میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ساتھ دیا۔