اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے غزہ کے حوالے سے ایک اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کو ہر رات 30 سے 40 فلسطینیوں کو ہلاک کرنا چاہیے۔
ایک انٹرویو میں بن گویر نے کہا کہ فوجی کارروائی صرف ان افراد تک محدود نہیں ہونی چاہیے جنہیں خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ان کے بقول زندہ رہنے کے قابل نہیں اور انہیں زندہ نہیں رہنا چاہیے۔
بن گویر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ اسرائیلی وزیر نے غزہ میں قتلِ عام کے لیے روزانہ 30 سے 40 افراد کی تعداد مقرر کرنے کی بات کی ہے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر سے متعلق بیانات کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں اسرائیلی حکام کے احتساب اور قانونی کارروائی کے دوران انہیں بطور ثبوت پیش کیا جا سکے۔