4 اپریل پاکستان کی تاریخ کا وہ دن ہے جب ملک کے پہلے منتخب وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے کر تاریخ کا ایک اہم باب بند کر دیا گیا۔ بھٹو کا سیاسی سفر نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا کی سیاست پر بھی گہرے اثرات چھوڑ گیا۔
ولادت اور خاندانی پس منظر
ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ کے ایک بااثر زمیندار خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سر شاہنواز بھٹو سندھ کی اہم سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔
بچپن اور تعلیم
بھٹو نے ابتدائی تعلیم بمبئی اور پھر کراچی میں حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ امریکہ گئے جہاں انہوں نے University of California, Berkeley سے پولیٹیکل سائنس پڑھی، اس کے بعد Oxford University سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ وہ ایک ذہین، بااعتماد اور مباحثے میں مہارت رکھنے والے طالب علم تھے۔
وکالت اور ابتدائی پیشہ ورانہ زندگی
تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھٹو نے لندن میں وکالت شروع کی اور پھر پاکستان واپس آ کر کچھ عرصہ قانون کے شعبے سے وابستہ رہے، مگر جلد ہی انہوں نے عملی سیاست کا رخ کر لیا۔
عملی سیاست میں داخلہ
بھٹو کا سیاسی کیریئر اسکندر مرزا کے دور میں شروع ہوا، لیکن اصل عروج انہیں ایوب خان کے دور میں ملا۔ اس دوران انہوں نے تجارت، توانائی اور صنعت کے وزیر کے طور پر خدمات انجام دیں اور بعد میں پاکستان کے وزیر خارجہ مقرر ہوئے۔
تاشقند معاہدہ اور اختلافات
1965 کی جنگ کے بعد تاشقند معاہدہ ہوا، جس میں بھٹو نے بطور وزیر خارجہ اہم کردار ادا کیا۔ تاہم اس معاہدے پر عوامی سطح پر شدید تنقید ہوئی اور یہی اختلافات ایوب خان سے ان کی دوری کا سبب بنے، جس کے بعد وہ حکومت سے الگ ہو گئے۔
پیپلز پارٹی کا قیام (1967)
1967 میں بھٹو نے لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ پارٹی کا نعرہ “روٹی، کپڑا اور مکان” تھا، جو جلد ہی عوام میں مقبول ہو گیا۔
1970 کے انتخابات اور بنگال کا بحران
1970 میں پاکستان میں پہلے عام انتخابات ہوئے۔ مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ کامیاب ہوئی، جبکہ مغربی پاکستان میں پنجاب اور سندھ میں بھٹو کی پیپلز پارٹی کو کامیابی ملی، اور سرحد و بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کامیاب رہی۔ اقتدار کی منتقلی نہ ہونے پر اختلافات بڑھے، فوجی آپریشن ہوا اور بالآخر 1971 میں بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا۔
دسمبر 1971 میں بھٹو نے اقتدار سنبھالا، وہ صدر بھی بنے اور مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی رہے۔
1973 کا آئین
بھٹو کے دور کا سب سے بڑا کارنامہ متفقہ طور پر 1973 کا آئین پاکستان کی تشکیل تھا، جس کے ذریعے ملک میں پارلیمانی نظام بحال ہوا۔
عالمی سفارتکاری اور اہم فیصلے
بھٹو عالمی سطح پر بھی متحرک رہے۔ 1974 میں لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کرائی، ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا، اور امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے ساتھ اختلافات سامنے آئے، جنہوں نے مبینہ طور پر دھمکی دی: “We will make a terrible example of you”۔
ضیاء الحق کی تقرری
1976 میں بھٹو نے کئی سینئر جرنیلوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ضیاء الحق کو آرمی چیف مقرر کیا، جو بعد میں ان کے خلاف استعمال ہوا۔
1977 کے انتخابات اور سیاسی بحران
1977 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی، مگر مخالف اتحاد نے دھاندلی کے الزامات لگائے۔ ملک بھر میں احتجاج شروع ہوا اور سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا۔ 5 جولائی 1977 کو ضیاء الحق نے فوجی بغاوت کے ذریعے بھٹو حکومت ختم کر کے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔
قصوری قتل کیس اور گرفتاری
بھٹو پر نواب محمد احمد خان قصوری کے قتل کا الزام لگا، انہیں گرفتار کیا گیا اور عدالت نے سزائے موت سنا دی۔
شہادت (4 اپریل 1979)
4 اپریل 1979 کو راولپنڈی جیل میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ کئی مبصرین نے اسے “عدالتی قتل” قرار دیا۔ ان کی موت آج بھی پاکستان کی تاریخ کا ایک متنازع باب ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کا سفر ایک بااثر جاگیردار کے بیٹے سے عالمی سطح کے رہنما تک کا تھا۔ انہوں نے پاکستان کو آئین دیا اور عوامی سیاست کو نئی سمت دی، مگر ساتھ ہی وہ سیاسی تنازعات، بحرانوں اور ایک المناک انجام کا شکار بھی ہوئے۔
4 اپریل محض ایک تاریخ نہیں بلکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے، جو آج بھی بحث کا موضوع ہے۔