جمہوری دور میں کراچی پریس کلب سیل کیوں؟ ذمہ دار کون؟

فہرستِ مضامین

شکیل سومرو

کراچی جیسے میگا سٹی کے دل میں واقع پریس کلب محض ایک عمارت نہیں، بلکہ یہ اظہارِ رائے کی آزادی، سیاسی شعور اور جمہوری جدوجہد کی ایک تاریخی علامت رہا ہے۔ مگر آج جب اسی پریس کلب کے گرد کنٹینرز کی بلند دیواریں کھڑی کر کے اسے عملی طور پر سیل کر دیا جاتا ہے، تو یہ منظر نہ صرف حیران کن بلکہ انتہائی تشویش ناک بھی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی ہم جمہوریت میں سانس لے رہے ہیں یا کسی نئی طرز کی نرم آمریت کو قبول کر چکے ہیں؟

سینئر صحافی مظہر عباس کی بات دل کو چیر دینے والی ہے کہ ایسے مناظر شاید سخت مارشل لا کے دور میں بھی کم دیکھنے کو ملے۔ یہ صرف ایک صحافی کی رائے نہیں بلکہ صحافتی تاریخ کا تجربہ ہے، جس میں 42 سال کے مشاہدے کا وزن شامل ہے۔ جب ایسا شخص کہتا ہے کہ آج کے مناظر ماضی کی آمریت سے بھی زیادہ سخت ہیں، تو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔

1958 میں قائم ہونے والا کراچی پریس کلب ہمیشہ مظلوموں، بے آواز افراد، سیاسی کارکنوں، شاعروں، ادیبوں اور صحافیوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ رہا ہے۔ جب ملک میں سیاسی جماعتوں پر پابندیاں لگتی رہیں، جب اخبارات بند کیے گئے، جب فیض، جالب اور جوش جیسے بڑے ناموں پر بھی قدغنیں لگیں، تب بھی پریس کلب کے دروازے کھلے رہے۔ یہی وہ ادارہ تھا جہاں سے جلوس نکلتے تھے، جہاں گرفتاریاں دی جاتی تھیں اور جہاں اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے تحریکیں جنم لیتی تھیں۔

مگر آج کا منظر اس روایت کے بالکل برعکس ہے۔ ایک جمہوری حکومت کے دور میں، خصوصاً سندھ میں جہاں پاکستان پیپلز پارٹی خود کو جمہوریت کا علمبردار قرار دیتی رہی ہے، ایسا عمل انتہائی مایوس کن ہے۔ یہی وہ جماعت ہے جس کے کارکنوں نے آمریت کے دور میں کوڑے کھائے، جیلیں کاٹیں اور اذیتیں برداشت کیں۔ مگر آج اگر اسی جماعت کی حکومت کے تحت اظہارِ رائے کو محدود کیا جائے، تو یہ تضاد مزید نمایاں ہو جاتا ہے۔

یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر ایسا خوف کیوں ہے؟ اگر کوئی سیاسی گروہ یا سول سوسائٹی کے افراد پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے، تو اس سے کیا طوفان آ جاتا؟ جمہوریت کا حسن ہی یہ ہے کہ لوگوں کو بولنے، احتجاج کرنے اور اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق حاصل ہو۔ اگر یہ بنیادی حقوق بھی محدود کر دیے جائیں، تو جمہوریت محض نام کی رہ جاتی ہے۔

ذمہ داری کے حوالے سے دیکھا جائے تو سندھ کے محکمہ داخلہ، سٹی پولیس اور انتظامیہ پر براہِ راست سوال اٹھتے ہیں۔ “اوپر سے حکم تھا” جیسا جواز نہ صرف کمزور ہے بلکہ ایک خطرناک روایت کو بھی جنم دیتا ہے۔ یہ اصطلاح نوآبادیاتی دور اور آمریت کی حکمرانی سے جڑی رہی ہے، جہاں احکامات اوپر سے آتے تھے اور نیچے والے بغیر سوال کیے ان پر عمل کرتے تھے۔ مگر ایک جمہوری نظام میں ایسی سوچ کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔

کراچی پریس کلب کی تاریخ میں منهاج برنا، نثار عثمانی اور دیگر کئی بے باک صحافیوں کے نام سنہرے حروف سے لکھے گئے ہیں، جنہوں نے اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے جیلیں کاٹیں۔ یہی وہ پریس کلب ہے جہاں ریاستی پابندیوں کو توڑتے ہوئے جوش ملیح آبادی، فیض احمد فیض اور حبیب جالب جیسے باغی شاعروں کا استقبال کیا گیا۔ جنرل ضیاء کے سخت ترین مارشل لا میں بھی بیگم نصرت بھٹو اور ایم آر ڈی کے رہنماؤں کے لیے یہ ادارہ ایک محفوظ جگہ رہا۔ آج اگر اسی ادارے کو کنٹینرز میں قید کر دیا جائے، تو یہ صرف ایک عمارت کی بندش نہیں بلکہ ایک تاریخی ورثے کی توہین بھی ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ ایسے اقدامات پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کی جائے۔ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ یہ ایک سوچ، ایک رویہ اور برداشت کا نام ہے۔ اگر حکومتیں خود ہی اظہارِ رائے کو محدود کریں گی، تو عوام کو کیا پیغام ملے گا؟

آخر میں یہ سوال ہر باشعور شہری کے ذہن میں گونج رہا ہے: کیا ہم واقعی جمہوریت میں رہ رہے ہیں یا محض اس کا تاثر پیدا کیا جا رہا ہے؟

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں