امریکا کے آپریشن ریسکیو کمانڈوز کی کہانی ؟

فہرستِ مضامین

ترتیب: اِشفاق احمد

امریکی خبر رساں اداروں نے اتوار کو یہ رپورٹ کیا ہے کہ امریکی کمانڈوز کو ایران کے اندر گہرائی تک بھیجا گیا تاکہ ایران میں پھنسے ایک پائلٹ کو ریسکیو کیا جا سکے۔ یہ خبر اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ عملے کے اس رکن کو ’بالکل محفوظ‘ حالت میں بازیاب کر لیا گیا ہے۔

فرایسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق تہران نے اس ہفتے کہا تھا کہ اس نے ایک ایف-15 جنگی طیارہ مار گرایا ہے، جو جنگ کے آغاز کے بعد ایران کے اندر گرنے والا پہلا امریکی لڑاکا طیارہ ہے۔ واشنگٹن نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ یہ طیارہ کس طرح تباہ ہوا۔

ٹرمپ نے اتوار کی صبح کہا کہ امریکی فوج نے، اپنے شاندار عملے کے ایک افسر جو ایک انتہائی معزز کرنل بھی ہیں، کے لیے ’امریکی تاریخ کی سب سے جرأت مندانہ سرچ اینڈ ریسکیو کارروائیوں میں سے ایک کو کامیابی سے انجام دیا، اور مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ وہ اب مکمل طور پر محفوظ ہیں۔‘

ٹرمپ نے بدھ کے روز کی گئی ایک پوسٹ میں ریسکیو مشن اور پائلٹ کو ریسکیو کرنے کی ایک اور کارروائی کو ’بہادری اور مہارت کا حیرت انگیز مظاہرہ‘ قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’میں پیر کو دوپہر 1 بجے اوول آفس میں فوج کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کروں گا۔‘

نیو یارک ٹائمز نے ایک نامعلوم اہلکار کے حوالے سے یہ رپورٹ کیا ہے کہ نیوی سیلز ٹیم 6 کے کمانڈوز کو اس پائلٹ کو ریسکیو کرنے کا کام سونپا گیا تھا، جبکہ امریکی جنگی طیاروں نے ایرانی قافلوں کو دور رکھنے کے لیے بمباری کے علاوہ فائرنگ بھی کی۔

خبر رساں ادارے ایکسیوس نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے لکھا کہ یہ پائلٹ جو ویپن سسٹمز افسر بھی ہیں، زخمی ہونے کے باوجود چلنے کے قابل تھے اور ایک دن سے زیادہ وقت تک پہاڑوں میں چھپ کر چلتے رہے اور یوں گرفتاری سے بچے رہے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق نامعلوم پائلٹ کے پاس ایک پستول، ایک ٹارچ اور مواصلاتی ڈیوائس موجود تھی تاکہ وہ ریسکیو ٹیم کے ساتھ رابطہ کرنے میں کامیاب رہیں۔

اخبار کے مطابق، جب امریکی کمانڈوز اس افسر کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایرانی فورسز کو دور رکھنے کے لیے فائرنگ کی۔

ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ انہوں نے امریکی فوج کو ہدایت دی کہ ’دنیا کے مہلک ترین ہتھیاروں سے لیس درجنوں طیارے‘ اس پائلٹ کو واپس لانے کے لیے بھیجے جائیں۔

ٹرمپ نے لکھا کہ ’وہ زخمی ہوئے ہیں، لیکن جلد مکمل طور پر تندرست ہو جائیں گے۔‘

تاہم انہوں نے اپنی ایک دوسری پوسٹ میں لکھا کہ پائلٹ ’شدید زخمی‘ تھا، مگر مزید تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

نیو یارک ٹائمز اور سی بی ایس کے مطابق، دو طیارے جو پائلٹ اور اس کے ریسکیورز کو محفوظ مقام تک لے جانے کے لیے تعینات کیے گئے تھے، ایران کے ایک دور دراز اڈے پر پھنس گئے اور انہیں ایرانیوں کے ہاتھ لگنے سے بچانے کے لیے تباہ کرنا پڑا۔

اس کے بعد امریکی افواج نے تین دیگر ٹرانسپورٹ طیاروں کا استعمال کرتے ہوئے پائلٹ اور اس کے ریسکیورز کو ایران سے باہر نکالا۔

ایرانی فوج نے اتوار کو کہا ہے کہ ’اس پائلٹ کو بچانے کے لیے امریکی کارروائی میں صوبہ اصفہان کے جنوبی حصے میں قائم متروک شدہ ہوائی اڈہ استعمال کیا گیا۔

اایرانی فوج کی مرکزی کمان کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا ہے کہ ایران نے دو امریکی ’سی-130 فوجی ٹرانسپورٹ طیارے اور دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر تباہ کیے ہیں۔‘

رپورٹس کے مطابق سی آئی اے نے غلط فہمی پیدا کرنے کے لیے ایک مہم بھی چلائی تاکہ ایران کے اندر یہ تاثر پھیلایا جا سکے کہ امریکی افواج اس پائلٹ کو زمینی راستے سے ملک سے باہر لے جا رہی ہیں۔

اپنی ابتدائی پوسٹ میں ٹرمپ نے ’ایک اور بہادر پائلٹ کی کامیاب بازیابی‘ کی بھی تصدیق کی، اور کہا کہ اسے ظاہر نہیں کیا گیا تاکہ دوسری ریسکیو کارروائی کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔

انہوں نے لکھا کہ ’فوجی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ دو امریکی پائلٹوں کو دشمن کے علاقے کے اندر سے الگ الگ ریسکیو کیا گیا ہو۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں آپریشنز ’کسی ایک امریکی کے ہلاک یا حتیٰ کہ زخمی ہوئے‘ بغیر مکمل کیے گئے۔

اے ایف پی نے مزید تبصرے کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے۔ پینٹاگون نے اے ایف پی کو ریسکیو کے اعلان سے متعلق ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ دیکھنے کے لیے کہا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں