جماعتِ اسلامی سندھ نے لیاری ٹرانسفارمیشن پلان کو ڈھونگ قرار دیتے ہوئے “لیاری کو حق دو” مہم چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔
جماعتِ اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان نے اتوار کو لیاری کے آٹھ چوک پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ حکومت کے لیاری ٹرانسفارمیشن پلان پر سخت تنقید کی۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ صوبائی وزیر سید ناصر شاہ نے لیاری میں ایک منصوبے کا افتتاح کیا اور بتایا گیا کہ پارکس بنیں گے اور گرین بیلٹس بنائی جائیں گی یہ ٹرانسفارمیشن منصوبہ گزشتہ 18 سال سے جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ لیاری میں ہر الیکشن سے پہلے پیکج کا اعلان کیا جاتا ہے، مگر زرداری صاحب کے پیکج کا کیا ہوا؟ ایک پیکج کے بعد دوسرا، پھر تیسرا پیکج آ جاتا ہے۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ 2020 میں کراچی ٹرانسفارمیشن پیکج کا اعلان ہوا تھا، جو 2023 میں مکمل ہونا چاہیے تھا، مگر اب 2026 آ چکا ہے۔ اب نئے پیکج میں 25 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ اس بات کا جواب کون دے گا کہ لیاری میں اگر کسی کی حکومت رہی ہے تو وہ پیپلز پارٹی کی رہی ہے۔ لیاری کے لوگ بھی مسلسل پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتے رہے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ آج جعلی لوگوں کو آگے لایا جا رہا ہے، جبکہ لیاری ٹاؤن بھی پیپلز پارٹی کے حوالے ہے۔ منعم ظفر خان نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کراچی کے تین ہزار تین سو ساٹھ ارب روپے ہڑپ کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سوال کا جواب کون دے گا کہ آپ نے اس شہر پر چار آنے بھی خرچ نہیں کیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے لیاری سمیت پورے کراچی کو کچرے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔ لیاری میں 13 یونین کونسلز ہیں، بتایا جائے کہ یہاں سے کتنا کچرا اٹھایا گیا ہے۔ کراچی شہر اور لیاری کے لوگ اس محکمے سے تنگ آ چکے ہیں۔ “حق دو لیاری” مہم کے حوالے سے آواز بلند کرتے رہیں گے اور صوبائی حکومت کی کرپشن کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔