ایک تازہ سروے کے مطابق، 61 فیصد اسرائیلی امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ ہفتے طے پانے والے سیز فائر معاہدے کے سخت مخالف ہیں اور وہ جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔
اسرائیلی انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی سٹڈیز (INSS) کی طرف سے اتوار کو شائع ہونے والے اس پول میں انکشاف ہوا ہے کہ 73 فیصد اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ اگلے ایک سال کے اندر ایران کے ساتھ لڑائی دوبارہ شروع ہو جائے گی۔
اس کے علاوہ 69 فیصد نے لبنان میں فوجی کارروائی جاری رکھنے کی حمایت کا اظہار کیا، چاہے لبنانی اور اسرائیلی حکومتوں کے درمیان امریکہ میں مذاکرات ہی کیوں نہ شروع ہو گئے ہوں۔
مایوسی کیوں؟
اسرائیلی عوام کی توقع تھی کہ وزیراعظم بینجمن نیٹن یاہو ایران کے خلاف “حتمی فیصلہ کن لڑائی” لڑ کر اسے ختم کر دیں گے۔ انہوں نے ایران کو “وجودی خطرہ” قرار دے کر عوام سے وعدہ کیا تھا کہ اس کی جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل اور حکومت کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔
لیکن 28 فروری کو امریکہ کی حمایت سے شروع ہونے والی جنگ، بھاری جانی نقصان اور معاشی نقصان کے باوجود، ایرانی حکومت کو کھڑا چھوڑ گئی۔
اب صرف دو ہفتوں کا سیز فائر طے پایا ہے — اور یہ معاہدہ اسرائیل کی شمولیت کے بغیر ہوا۔ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام جزوی طور پر برقرار ہے، اور آبنیائے ہرمز پر اس کی گرفت مزید مضبوط ہو گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیٹن یاہو نے جنگ کے ممکنہ نتائج کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا۔ انہوں نے کئی دہائیوں سے ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے سفارتی معاہدے کو “اسرائیل کے لیے وجودی خطرہ” قرار دیا، جس کی وجہ سے اب عوام میں شدید مایوسی پائی جا رہی ہے۔
اپوزیشن کا شدید ردعمل
اپوزیشن لیڈر یائر لاپید نے نیٹن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے کہا:
“نیٹن یاہو نے ہمیں ایک محافظ ریاست بنا دیا ہے جو قومی سلامتی کے اہم فیصلوں کے لیے ٹیلی فون پر ہدایات وصول کرتی ہے۔”
جبکہ بائیں بازو کے لیڈر یائر گولان نے تو سیدھا لکھ دیا:
“نیٹن یاہو نے جھوٹ بولا۔ اس نے تاریخی فتح اور نسلوں کی سلامتی کا وعدہ کیا، مگر حقیقت میں اسرائیل کی تاریخ کا ایک بڑا اسٹریٹجک ناکامی کا سامنا ہے۔”
ماہرین کا خیال ہے کہ اسرائیلی عوام اب نیٹن یاہو کو دو بڑی ناکامیوں سے جوڑ رہے ہیں: اکتوبر 7 کے واقعات اور ایران جنگ کا نتیجہ۔
تاہم، اسرائیل کے پاس امریکہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں چلنے والے مذاکرات کے خلاف جانے کا کوئی راستہ نہیں۔ نیٹن یاہو نے عوامی سطح پر آبنیائے ہرمز کی امریکی بندش کی حمایت کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک میں “مکمل ہم آہنگی” ہے۔
نتیجہ:
اسرائیلی عوام میں سیز فائر کے خلاف غم و غصہ عروج پر ہے۔ وہ ایک فیصلہ کن فتح چاہتے تھے، مگر جو ملا ہے وہ ایک بے نتیجہ جنگ اور باقی رہ جانے والا ایران ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ مایوسی کب تک سیاسی طور پر نیٹن یاہو کے لیے خطرہ بنتی ہے۔
جنگ ختم؟ مگر اسرائیلی عوام کہتے ہیں — ابھی تو صرف وقفہ ہے!
کیا یہ سیز فائر قائم رہ پائے گا، یا خطے میں ایک بار پھر آگ بھڑک اٹھے گی؟ وقت ہی بتائے گا۔