ایران کا امن کا پیغام، امریکا سے مذاکرات کے نئے دور کی امید

فہرستِ مضامین

ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ نئے مذاکراتی دور سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ تہران جنگ کے بجائے سفارتکاری کو ترجیح دیتا ہے۔

بدھ کے روز جاری بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران نہ جنگ کا خواہاں ہے اور نہ ہی خطے میں عدم استحکام چاہتا ہے، بلکہ وہ ہمیشہ بات چیت اور تعمیری روابط کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے۔ تاہم انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران کسی دباؤ یا زبردستی کے تحت ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔

پزشکیان نے عالمی سطح پر دہرے معیار پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض ممالک کے خلاف فوجی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایران کے خلاف کارروائیوں کا قانونی جواز کیا ہے اور شہریوں، بچوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کیا توجیہ پیش کی جا سکتی ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے باوجود سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ جنگ بندی میں توسیع کے امکان کو مسترد کر دیا ہے، جو پاکستان کی ثالثی میں محدود مدت کے لیے طے پائی تھی۔ تاہم انہوں نے عندیہ دیا ہے کہ آئندہ دنوں میں اہم پیش رفت متوقع ہے اور ایران معاہدے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

ادھر دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے مختلف مقامات زیر غور ہیں، جن میں اسلام آباد، جنیوا اور استنبول شامل ہیں، تاہم ابھی تک کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والا پہلا براہ راست مذاکراتی دور کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا تھا، جہاں یورینیم افزودگی، علاقائی اثر و رسوخ اور میزائل پروگرام جیسے معاملات پر اختلافات برقرار رہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں اگرچہ کشیدگی برقرار ہے، لیکن فریقین کی جانب سے بات چیت پر آمادگی خطے میں ممکنہ بہتری کی ایک اہم علامت سمجھی جا رہی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں