وقت کم، خطرہ بڑا: پاکستان ایران-امریکہ مذاکرات بحال کرانے میں سرگرم

فہرستِ مضامین

امریکہ کی جانب سے بڑھتی ہوئی عسکری اور سفارتی کشیدگی پاکستان کی ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کرانے کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال تیزی سے غیر یقینی ہو رہی ہے۔

اسلام آباد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے متوقع دورے سے قبل پاکستان ایک بار پھر اس کوشش میں مصروف ہے کہ ایران کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ کیا جا سکے، جس کا مقصد جاری جنگ کو ختم کرنا ہے جو اب اپنے آٹھویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔

پاکستان کی سفارتی دوڑ

پاکستانی حکام کو امید ہے کہ ایران بدھ تک مذاکراتی ٹیم بھیج سکتا ہے، تاہم گزشتہ 48 گھنٹوں میں امریکہ کی جانب سے کیے گئے کئی اقدامات نے اسلام آباد کی امن کوششوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق گزشتہ تین دنوں میں کم از کم نو امریکی طیارے پاکستان پہنچے ہیں جن میں مذاکراتی ٹیم کے لیے عملہ اور ساز و سامان لایا گیا ہے۔ وینس کے ساتھ امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی متوقع ہیں، جو پہلے دور مذاکرات میں بھی شریک تھے۔

تاہم اصل سوال یہ ہے کہ وہ ملاقات کس سے کریں گے، کیونکہ ایران کی شرکت تاحال غیر یقینی ہے۔

ایران کا سخت مؤقف

ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ دھمکیوں کے سائے میں کسی بھی مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنے گا۔

پاکستان میں ایرانی سفیر نے ادبی انداز اپناتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا کہ کوئی بھی بڑی تہذیب دھمکی کے تحت مذاکرات نہیں کرتی۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے بھی واشنگٹن سے فوری رابطے کی تردید کی ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سخت لہجے میں کہا کہ ٹرمپ مذاکرات کو “سرنڈر ٹیبل” میں بدلنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران میدانِ جنگ میں نئے اقدامات کے لیے تیار ہے۔

سمندری محاذ پر کشیدگی

کشیدگی کا ایک نیا محاذ سمندری راستوں پر سامنے آیا ہے، جہاں امریکی بحریہ نے عمان کے قریب ایک ایرانی جہاز کو روکا اور اس پر کارروائی کی۔ تہران نے اسے “جنگ بندی کی خلاف ورزی” اور “قزاقی” قرار دیا ہے۔

اسی طرح امریکہ نے ایک اور جہاز کو بھی قبضے میں لیا جو پہلے سے پابندیوں کی زد میں تھا۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

مذاکرات یا دباؤ؟

ماہرین کے مطابق ایران اس بحران کو صرف سفارتکاری نہیں بلکہ بقا کی جنگ سمجھ رہا ہے، جبکہ امریکہ ایران پر یورینیم افزودگی مکمل ختم کرنے اور میزائل پروگرام محدود کرنے کے مطالبات پر قائم ہے۔

امریکہ نے واضح کیا ہے کہ جب تک ایران مذاکرات نہیں کرتا، سمندری پابندیاں برقرار رہیں گی۔

آبنائے ہرمز: اصل طاقت کا مرکز

تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز اس بحران کا سب سے اہم نکتہ ہے، جہاں ایران اسے اپنے اہم “سفارتی ہتھیار” کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جبکہ امریکہ اسے غیر مؤثر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

پاکستان کا کردار

پاکستان اس پورے عمل میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے کیونکہ اس کے تعلقات واشنگٹن اور تہران دونوں سے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اسلام آباد کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہو سکتی ہے کہ وہ دونوں فریقین کو ایک ایسی فضا میں لا سکے جہاں وہ کسی درمیانی سمجھوتے پر متفق ہوں۔

ممکنہ مستقبل

اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو خطہ ایک بار پھر مکمل جنگ کی طرف جا سکتا ہے، جبکہ کامیابی کی صورت میں محدود اور عارضی سمجھوتے کا امکان موجود ہے۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں معمولی غلطی بھی بڑے تصادم کا سبب بن سکتی ہے، اور آنے والے دن اس بحران کا رخ طے کریں گے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں