تحریر: فہمیدہ ریاض شہوانی
امریکہ ایران مذاکرات کا دوسرا دور تو مقررہ وقت پر شروع نہیں ہوا لیکن ایک امریکی خاتون آخری لمحوں تک پاکستانی حکام سے ملاقاتوں اور رابطو میں سرگرم نظر ائئں اس سے پہلے دور میں دنیا بھر کے میڈیا کی نظریں پاکستان کے دارالحکومت پر جمی تھیں، تو ویڈیوں کیمروں کی چکا چوند سے دور ایک خاتون خاموشی سے تاریخ کے رخ کو موڑنے میں مصروف تھیں۔
یہ نٹالی اے بیکر پاکستان میں متعین وہ امریکی ناظم الامور جنہیں آج کل عالمی سیاست میں “خاموش مگر فیصلہ کن” کھلاڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ نٹالی اے بیکر کون ہیں اور ان کا کیا تجربہ اور مذاکرات میں کیا کردار ہے؟ آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں
نٹالی بیکر کوئی عام سرکاری افسر نہیں ہیں، بلکہ وہ امریکی فارن سروس کا حصہ ہیں جنہیں مشکل ترین مشنز کے لیے چنا جاتا ہے۔
پرنسٹن اور ہارورڈ جیسے دنیا کے بہترین اداروں سے تعلیم یافتہ بیکر نے اپنے کیریئر کا زیادہ تر حصہ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے تپتے ہوئے سیاسی ریگزستانوں میں گزارا ہے۔
مبصرین کے مطابق ان کی شخصیت میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو ایک جدید دور کے اعلیٰ درجے کے سفارت کار میں ہونی چاہئیں یعنی ذہانت، خاموشی اور زبانوں پر حیرت انگیز عبور۔
اپریل میں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان اسلام آباد میں بیک چینل مذاکرات کا آغاز ہوا، تو نٹالی بیکر کا نام اچانک شہ سرخیوں میں آ گیا۔ اگرچہ وہ باقاعدہ سفیر نہیں ہیں، لیکن جنوری 2025 سے وہ پاکستان میں امریکہ کی سب سے سینئر نمائندہ ہیں۔
بیکر نے نہ صرف امریکی وفد جس میں نائب صدر جے ڈی وینس شامل تھے ان کی میزبانی کی بلکہ پاکستانی حکومت اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر ان مذاکرات کے لیے وہ ‘ راہ ہموار کی جہاں دہائیوں کے دشمن آمنے سامنے بیٹھ سکیں۔
ناظرین سفارتی حلقوں میں کہا جاتا ہے کہ جب آپ کسی سے اس کی اپنی زبان میں بات کرتے ہیں، تو آدھی جنگ وہیں جیت لی جاتی ہے۔ نٹالی بیکر فارسی، عربی، روسی اور ہسپانوی زبانیں روانی سے بولتی ہیں۔ ان کا فارسی پر عبور ایرانی وفد کے ساتھ اعتماد سازی میں سنگِ میل ثابت ہوا۔
نٹالی بیکر کی مہارت محض اتفاقیہ نہیں ہے۔ وہ مشرقِ وسطیٰ کے امور کی ماہر مانی جاتی ہیں وہ لبییا سے لیکر قطر اور دبئی میں بھی فرائص سرانجام دے چکی ہیں۔

ان مذاکرات کا حصہ بننے سے پہلے انہوں نے انہوں نے دبئی میں واقع ‘ایرانی ریجنل پریزنس آفیس میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر کام کیا ہے۔ یہ دفتر دراصل ایران پر نظر رکھنے اور وہاں کی اندرونی سیاست کو سمجھنے کا سب سے بڑا امریکی مرکز مانا جاتا ہے۔
وہ 2011 کے (لیبیا انقلاب )کے دوران طرابلس میں موجود تھیں اور اس وقت تک وہاں سے نہیں نکلیں جب تک سفارت خانہ مکمل خالی نہیں کرا لیا گیا۔ یہ جرات اور دباؤ میں کام کرنے کی صلاحیت ہی انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔
عموماً سفارت کار پسِ پردہ رہتے ہیں، لیکن 11 اپریل 2026 کے بعد نٹالی بیکر کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ صارفین نے انہیں “سفارتی پل” قرار دیا اور ان کی سادگی مگر اثر انگیزی کو سراہا۔
لوگ یہ جان کر حیران رہ گئے کہ اسلام آباد میں مقیم یہ خاتون نہ صرف امریکہ کی نمائندگی کر رہی ہیں بلکہ وہ ایران کے ساتھ برسوں سے جاری تناؤ کو کم کرنے کے لیے ایک ‘خاموش سہولت کارکا کام بھی کر رہی ہیں۔
بیکر کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ ایک طرف پاکستان کے ساتھ امریکہ کے پیچیدہ تعلقات کو سنبھال رہی ہیں اور دوسری طرف ایران کے ساتھ جاری حساس مذاکرات میں ‘ٹریفک کنٹرولر’ کا کردار ادا کر رہی ہیں
۔ 2026 کے ان مذاکرات میں جہاں ایٹمی پروگرام اور علاقائی سلامتی جیسے سنگین موضوعات زیرِ بحث ہیں، وہاں بیکر کی مشاورت کو وائٹ ہاؤس میں انتہائی اہمیت دی جاتی ہے۔
ان مذاکرات سے پہلے انہیں سندھ میں موئن جو دڑو سے لیکر عمرکوٹ کے قلعے کی سیر تفریح کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا جس سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ وہ سافٹ ڈپلومیسی اور کلچرل رابطوں میں سرمیہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں۔