امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسے ہفتے میں، جس کے آغاز پر انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے فیصلے سے “صرف ایک گھنٹہ دور” تھے، کبھی مستقل جنگ بندی کی امید ظاہر کی اور کبھی فوجی کارروائی کی دھمکیاں دیں، جس سے امریکی پالیسی کے بارے میں غیر یقینی صورتحال مزید گہری ہوگئی ہے۔
ٹرمپ کے متضاد بیانات کے ساتھ ساتھ سفارتی سرگرمیوں میں بھی تیزی دیکھی گئی۔ ایران نے جمعرات کو تصدیق کی کہ اسے واشنگٹن کی جانب سے تہران کی تازہ جنگ بندی تجویز پر ردعمل موصول ہو چکا ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تاہم دوسری جانب ٹرمپ نے ایک “تیسرے راستے” یعنی طویل اور مسلسل جنگ کے امکان کا بھی اشارہ دیا۔
“تہران کو تین اقدامات میں کچلنے” والا مضمون شیئر
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو امریکی اخبار نیو یارک پوسٹ میں شائع ایک مضمون دوبارہ شیئر کیا، جسے اسرائیل نواز تھنک ٹینک فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے مشیر رچرڈ گولڈ برگ نے تحریر کیا تھا۔
“تہران کو تین اقدامات میں کیسے شکست دی جائے” کے عنوان سے شائع مضمون میں امریکا پر زور دیا گیا کہ وہ:
ایران کے خلاف معاشی جنگ اور بحری ناکہ بندی جاری رکھے،
عالمی توانائی نظام کو امریکی غلبے کے مطابق تشکیل دے،
اور آبنائے ہرمز میں امریکی فوجی کارروائی کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی “امریکی شرائط” پر بحال کرے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے درمیان منگل کو ہونے والی ٹیلیفون گفتگو میں ایران جنگ کے مستقبل پر اختلافات سامنے آئے۔
رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو امریکا سے دوبارہ حملے شروع کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے جبکہ ٹرمپ کسی معاہدے کی امید میں نئی کارروائی سے گریز چاہتے تھے۔
جب بدھ کو ٹرمپ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا:
“وہ بہت اچھے آدمی ہیں، وہ وہی کریں گے جو میں چاہوں گا۔”
اس ہفتے ٹرمپ نے کیا کیا کہا؟
ٹرمپ انتظامیہ ایران کے معاملے پر مسلسل وسیع اور بعض اوقات متضاد پیغامات دیتی رہی ہے، حتیٰ کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے بھی یہی صورتحال تھی۔
امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف حملے ایسے وقت میں شروع کیے جب تہران کے جوہری پروگرام پر امریکا اور ایران کے مذاکرات جاری تھے۔
بعد ازاں 8 اپریل سے جاری جنگ بندی اُس وقت عمل میں آئی جب ٹرمپ نے سخت ترین دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو “ایک پوری تہذیب تباہ ہو جائے گی”۔
“ایران کو سمجھ نہیں آ رہی امریکا امن چاہتا ہے یا جنگ”
دی جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ کی سیاست کے اسسٹنٹ پروفیسر سینا آزودی نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا:
“اگر آپ تہران میں بیٹھے ہوں تو آپ کو سمجھ نہیں آتی کہ امریکی صدر واقعی معاہدہ چاہتے بھی ہیں یا نہیں، کیونکہ وہ ہر چند گھنٹوں بعد اپنا مؤقف بدل دیتے ہیں اور ایران کو حملوں کی دھمکیاں دیتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ایران فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ امریکا دراصل معاہدہ چاہتا ہے یا جنگ، جبکہ میڈیا پر مذاکرات کرنے کی ٹرمپ کی پالیسی تہران کے لیے خفیہ رعایتیں دینا مزید مشکل بنا رہی ہے۔
ٹرمپ کے بدلتے بیانات
اتوار کو ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایران کے لیے “وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے”، جو جنگ بندی کے خاتمے کا ایک اور اشارہ تھا۔
لیکن پیر کو انہوں نے کہا کہ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر نئے حملے “فی الحال روک دیے گئے ہیں” کیونکہ “سنجیدہ مذاکرات” جاری ہیں۔
اسی روز ایرانی خبر ایجنسی تسنیم نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے 14 نکاتی نظرثانی شدہ امن منصوبہ پیش کر دیا ہے۔
منگل کو ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ حملے بحال کرنے کے فیصلے سے “صرف ایک گھنٹہ دور” تھے، مگر انہوں نے ایران کو مذاکرات کی طرف واپس آنے کے لیے چند دن دینے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا:
“شاید جمعہ، ہفتہ یا اتوار، یا اگلے ہفتے کے آغاز تک… محدود وقت ہے۔ ممکن ہے ہمیں دوبارہ بڑا حملہ کرنا پڑے، ابھی یقین نہیں۔”
بدھ کو بھی ٹرمپ نے دونوں امکانات کھلے رکھے۔
انہوں نے کہا:
“ہم ایران معاملے کے آخری مرحلے میں ہیں۔ یا معاہدہ ہوگا یا پھر ہمیں کچھ سخت اقدامات کرنا ہوں گے، لیکن امید ہے ایسا نہیں ہوگا۔”
ٹرمپ نے مزید کہا:
“اگر ہمیں درست جواب نہ ملا تو کارروائی بہت تیزی سے ہوگی، ہم مکمل تیار ہیں۔”
ٹرمپ کی حکمت عملی یا سیاسی الجھن؟
ٹرمپ کے حامی ان کی غیر متوقع پالیسی کو “پاگل آدمی حکمت عملی” قرار دیتے ہیں، جس کے ذریعے مخالفین پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، مگر ناقدین کے مطابق یہ دراصل ایک گہری سیاسی اور عسکری الجھن کی عکاسی ہے۔
موجودہ صورتحال برقرار رکھنے یا نئے حملوں کی صورت میں امریکی معیشت مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ جنگ کے حوالے سے ٹرمپ کی مقبولیت بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
مڈل ایسٹ کونسل آن گلوبل افیئرز سے وابستہ تجزیہ کار عمر رحمان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ جانتی ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والا کوئی بھی نیا معاہدہ سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور کے جوہری معاہدے جوائنٹ کمپریہینسو پلان آف ایکشن سے زیادہ سخت دکھائی دینا چاہیے، کیونکہ ٹرمپ 2018 میں اسی معاہدے سے نکل گئے تھے۔
عمر رحمان کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے ایک “غیر معمولی دباؤ کا ہتھیار” حاصل کر لیا ہے، جس سے مذاکرات میں اس کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔
انہوں نے لکھا:
“اس تعطل کے ماحول میں کشیدگی بڑھانے کا جال مزید پرکشش محسوس ہوتا ہے، کیونکہ شاید زیادہ طاقت استعمال کر کے ٹرمپ صورتحال کو اپنے حق میں بدلنے کی امید رکھتے ہیں۔”
یورینیم ذخائر اور آبنائے ہرمز پر ڈیڈلاک برقرار
جمعرات کو بھی تعطل برقرار دکھائی دیا، جب ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے اعلیٰ افزودہ یورینیم ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، حالانکہ تہران بارہا واضح کر چکا ہے کہ یہ شرط ناقابل قبول ہے۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے اس مطالبے کو بھی مسترد کر دیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کیا جائے۔