کراچی میں آئی جی سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ انمول عرف پنکی کے کیس میں مزید اہم اور بااثر نام سامنے آ سکتے ہیں۔
کراچی چیمبر آف کامرس کے دورے کے موقع پر تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کے تعاون سے منشیات کے خاتمے کے لیے بھرپور کارروائیاں جاری ہیں اور اب تک ایک ہزار سے زائد مجرموں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ منشیات استعمال کرنے والے اور اس کی فروخت میں ملوث افراد میں واضح فرق ہے، تاہم جو لوگ اس غیر قانونی کاروبار میں شامل ہیں انہیں کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس بھی تشکیل دی جا رہی ہے، اور شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ پولیس کو معلومات فراہم کریں۔
انمول عرف پنکی کیس سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انمول زیادہ تر لاہور میں رہائش پذیر تھی اور اس کیس میں کئی بااثر افراد کے نام سامنے آ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق کچھ مزید اہم نام بھی سامنے آنے کا امکان ہے، تاہم میڈیا کو اس کیس کو غیر ضروری طور پر ہائی لائٹ یا گلیمرائز نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے سے معاملہ غلط رخ اختیار کر سکتا ہے اور کسی غیر ضروری فلمی یا تفریحی رنگ میں ڈھل سکتا ہے۔
آئی جی سندھ نے مزید بتایا کہ کچے کے علاقوں میں جاری آپریشن نجات مہران کے دوران 600 سے زائد ڈاکو یا تو مارے گئے، گرفتار ہوئے یا انہوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ ان کے مطابق اب سندھ میں کوئی نو گو ایریا موجود نہیں رہا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے اور پولیس کی کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جا رہی ہیں۔