غزہ امدادی فلوٹیلا کے کارکنوں کی تذلیل پر اسرائیلی وزیر بن گویر عالمی تنقید کی زد میں

فہرستِ مضامین

اسرائیل کے انتہا پسند وزیرِ قومی سلامتی Itamar Ben-Gvir ایک نئی متنازع ویڈیو کے بعد شدید عالمی تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔ ان کے دفتر کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا کے غیر ملکی کارکنوں کو ہتھکڑیاں اور پلاسٹک کی تاروں سے باندھ کر گھٹنوں کے بل بٹھایا گیا، جبکہ پس منظر میں اسرائیلی قومی ترانہ بجایا جا رہا تھا۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں بین الاقوامی پانیوں سے گرفتار کیے گئے کارکنوں کو اشدود شہر میں قائم ایک عارضی حراستی مقام پر رکھا گیا۔ ایک خاتون کارکن نے “فری فلسطین” کا نعرہ لگایا تو نقاب پوش اہلکاروں نے اسے زور سے دھکا دے کر ہٹا دیا، جس پر بن گویر اہلکاروں کو “شاباش” کہتے دکھائی دیے۔

بعد ازاں بن گویر اسرائیلی جھنڈا لہراتے ہوئے کارکنوں کے درمیان گھومتے اور ان کا مذاق اڑاتے نظر آئے۔ ویڈیو میں بعض کارکنوں کو زمین پر سر جھکائے، ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے “اسٹریس پوزیشن” میں بھی دکھایا گیا، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور مختلف ممالک نے شدید ردِعمل دیا ہے۔

اٹلی، فرانس اور کینیڈا سمیت کئی ممالک کا احتجاج

فرانس، اٹلی، نیدرلینڈز اور کینیڈا سمیت متعدد ممالک نے اسرائیلی سفیروں کو طلب کر کے واقعے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا اور اپنے شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

فرانسیسی وزیرِ خارجہ Jean-Noel Barrot نے بن گویر کے اقدامات کو “ناقابلِ قبول” قرار دیا، جبکہ کینیڈا کی وزیرِ خارجہ Anita Anand نے اس واقعے کو “انتہائی تشویشناک” کہا۔

برطانیہ کی وزیرِ خارجہ Yvette Cooper نے ویڈیو کو “شرمناک مناظر” قرار دیا، جبکہ اٹلی کی وزیرِ اعظم Giorgia Meloni نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کے ساتھ ایسا سلوک انسانی وقار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

بن گویر کون ہیں؟

50 سالہ وکیل اور سیاست دان اتمار بن گویر اسرائیل کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت Otzma Yehudit کے سربراہ ہیں۔ وہ 2022 کے انتخابات کے بعد کابینہ میں شامل ہوئے اور بعد میں وزیرِ قومی سلامتی مقرر کیے گئے۔

بن گویر مغربی کنارے کی متنازع یہودی بستی “کریات اربع” میں رہتے ہیں اور ان پر نسل پرستی پر اکسانے، املاک کو نقصان پہنچانے اور کالعدم شدت پسند تنظیم “کاخ” کی حمایت جیسے الزامات میں سزائیں بھی ہو چکی ہیں۔

وہ مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں متعدد بار اسرائیلی آبادکاروں کے ہمراہ داخل ہو چکے ہیں اور وہاں یہودی عبادت کی حمایت کرتے رہے ہیں، جسے 1967 کے بعد طے شدہ انتظامات کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔

غزہ امدادی فلوٹیلا کیا ہے؟

غزہ امدادی فلوٹیلا دراصل مختلف ممالک کے کارکنوں اور امدادی سامان پر مشتمل کشتیوں کے قافلے ہوتے ہیں جو اسرائیلی ناکہ بندی کے باوجود غزہ تک امداد پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ تحریک 2006 میں لبنان جنگ کے دوران شروع ہوئی اور 2007 میں غزہ کی ناکہ بندی کے بعد مزید فعال ہوئی۔ 2008 میں “فری غزہ موومنٹ” کی دو کشتیوں نے پہلی بار کامیابی سے غزہ تک رسائی حاصل کی تھی، تاہم 2010 کے بعد اسرائیلی فورسز تقریباً ہر فلوٹیلا کو بین الاقوامی پانیوں میں روک لیتی ہیں۔

رواں ہفتے اسرائیلی فورسز نے 46 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے کم از کم 430 کارکنوں کو حراست میں لیا۔

ماضی میں بھی حملے اور بدسلوکی کے الزامات

2010 میں اسرائیلی کمانڈوز نے ترک جہاز Mavi Marmara پر چھاپہ مارا تھا جس میں 10 کارکن ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

فلوٹیلا منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز کی جانب سے کارکنوں کے ساتھ بدسلوکی، تشدد اور بعض اوقات جنسی ہراسانی کے الزامات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ حالیہ کارروائی میں بھی کارکنوں پر “ربڑ کی گولیاں” چلانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ماحولیاتی کارکن Greta Thunberg، جو 2025 میں ایک فلوٹیلا کا حصہ رہ چکی ہیں، نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی اہلکاروں نے کارکنوں کو مارا پیٹا، لاتیں ماریں اور پنجرے نما کمروں میں گیس دینے کی دھمکیاں دیں۔

فلسطینی قیدیوں کی صورتحال

فلسطینی قیدیوں کے حقوق کے ادارے Addameer کے مطابق اس وقت تقریباً 10 ہزار فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں، جن میں ہزاروں ایسے افراد بھی شامل ہیں جن پر نہ فردِ جرم عائد کی گئی ہے اور نہ ہی مقدمہ چلایا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق 342 فلسطینی بچے بھی اسرائیلی حراست میں موجود ہیں، جبکہ اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جہاں بچوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جاتے ہیں۔

رواں برس منظور کیے گئے ایک نئے قانون کے تحت، جس کی قیادت بن گویر نے کی، فلسطینیوں کو “دہشت گردی” کے مقدمات میں سزائے موت دی جا سکے گی، تاہم یہی قانون یہودی اسرائیلی شہریوں پر لاگو نہیں ہوگا، جس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں