ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر جمعرات کو اہم مذاکرات اور مشاورت کے لیے تہران کا دورہ کریں گے، جہاں وہ ایرانی حکام سے جاری ایران، امریکا اور اسرائیل تنازع پر بات چیت کریں گے۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ امریکا کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے دیے گئے تازہ ردعمل کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ پاکستان ثالثی کی کوششوں میں مزید سرگرم ہو گیا ہے۔
تقریباً تین ماہ سے جاری امریکا۔اسرائیل اور ایران کشیدگی کے بعد جنگ بندی کو چھ ہفتے گزر چکے ہیں، تاہم مستقل امن معاہدے کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں حالیہ دنوں میں نمایاں تیزی آئی ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بدھ کی شب کہا کہ تہران کو امریکا کے تازہ مؤقف موصول ہو چکے ہیں اور ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے آئی ایس این اے کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران میں ایرانی قیادت کے ساتھ “اہم مذاکرات اور مشاورت” کریں گے۔
ادھر پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی بدھ کو ایران پہنچے، جہاں وہ ایک ہفتے کے اندر دوسری مرتبہ امریکی تجاویز پر بات چیت کریں گے۔
یاد رہے کہ اپریل میں پاکستان نے امریکا اور ایران کے حکام کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی براہِ راست ملاقات کی میزبانی کی تھی۔ ان مذاکرات میں عاصم منیر نے کلیدی کردار ادا کیا تھا، تاہم ایران نے امریکا پر “ضرورت سے زیادہ مطالبات” کرنے کا الزام لگا کر مذاکرات ناکام قرار دیے تھے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ مذاکرات اب “معاہدے اور دوبارہ حملوں کے درمیان بارڈر لائن” پر پہنچ چکے ہیں۔
واشنگٹن کے قریب جوائنٹ بیس اینڈریوز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، “اگر ہمیں درست جواب نہ ملا تو صورتحال بہت تیزی سے بدل سکتی ہے، ہم ہر آپشن کے لیے تیار ہیں۔”
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ تہران سے “صحیح جواب” حاصل کرنے کے لیے چند روز مزید انتظار کر سکتے ہیں، حالانکہ وہ اس سے قبل کئی بار ڈیڈ لائنز دے کر بعد میں مؤخر یا منسوخ کر چکے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران بیک وقت مذاکرات اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا، “جہاں لڑنا ضروری ہوگا وہاں لڑیں گے، اور جہاں مذاکرات ضروری ہوں گے وہاں مذاکرات بھی کریں گے۔ اگر ملکی مفاد کا تقاضا ہوا تو ہم اسی قوت اور عزم کے ساتھ سفارت کاری کے میدان میں بھی موجود ہوں گے جس طرح ہماری افواج ملک کا دفاع کر رہی ہیں۔”
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بھی امریکا اور اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو “خطے کی جنگ اس بار خطے سے باہر تک پھیل جائے گی۔”
ایران نے رواں ہفتے امریکا کو نئی تجاویز پیش کی ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ تجاویز تہران کے 14 نکاتی منصوبے پر مبنی ہیں، جن میں آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول، جنگی نقصانات کا ازالہ، پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی واپسی اور امریکی افواج کے انخلا جیسے مطالبات شامل ہیں۔
ڈبلن یونیورسٹی کے کلنٹن انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر اسکاٹ لوکاس کے مطابق اس وقت سفارتی برتری ایران کے پاس دکھائی دے رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے 14 نکاتی منصوبہ پیش کر کے مذاکرات کا مرکز جوہری پروگرام کے بجائے آبنائے ہرمز کو بنا دیا ہے، جس سے واشنگٹن دباؤ میں آ گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اب دوبارہ جوہری معاملے کو مذاکرات کا بنیادی موضوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور حزب اللہ جیسے گروپوں سے تعلقات اب مذاکرات کا مرکزی حصہ نہیں رہے۔
پروفیسر اسکاٹ لوکاس کے مطابق بالآخر کسی نہ کسی سمجھوتے کا امکان موجود ہے، تاہم ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیوں کے باعث دوبارہ جنگ کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ اپریل کے وسط سے ایران امریکی بحری ناکہ بندی کا سامنا کر رہا ہے، جس کا مقصد تہران پر دباؤ ڈال کر آبنائے ہرمز کھلوانا اور امریکی شرائط تسلیم کروانا بتایا جا رہا ہے۔
امریکی فوجی حکام کے مطابق ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد کم از کم پانچ جہازوں کی تلاشی لی جا چکی ہے، جبکہ بدھ کو امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک ایسے جہاز کو روکنے اور راستہ تبدیل کرانے کا دعویٰ کیا جو مبینہ طور پر ایرانی بندرگاہ کی جانب جا رہا تھا۔