اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حزب اللہ کے خلاف سخت کارروائی کے لیے اندرونِ ملک بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر پیر کے روز لبنان کے دارالحکومت بیروت میں تنظیم کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا، تاہم چند گھنٹوں بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد یہ منصوبہ مؤخر کر دیا گیا۔
صبح کے وقت نیتن یاہو نے کہا کہ وہ ایسی صورتحال قبول نہیں کریں گے جس میں “حزب اللہ ہمارے شہروں اور شہریوں پر حملے کرے اور بیروت کے علاقے ضاحیہ میں موجود اس کا دہشت گرد ہیڈکوارٹر محفوظ رہے۔”
بعد ازاں اسرائیلی فوج نے جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ، جو حزب اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے، کے لیے انخلا کی وارننگ جاری کر دی۔
نیتن یاہو کو حالیہ ہفتوں میں لبنان میں جنگ کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ حزب اللہ کے راکٹ اسرائیل کے اندر مزید گہرائی تک پہنچ رہے ہیں جبکہ تنظیم کے دھماکا خیز ڈرون حملوں میں متعدد اسرائیلی فوجی ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔
اپوزیشن رہنما اویگدور لیبرمین نے پیر کو کہا کہ اسرائیل کو “بہت پہلے” ضاحیہ پر بمباری کر دینی چاہیے تھی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہاں “ہر دوسرا گھر کسی نہ کسی طرح حزب اللہ سے منسلک ہے۔” اسرائیلی فوج کے بعض حلقے بھی بیروت پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے حامی بتائے جاتے ہیں۔
اپریل میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد امریکہ نے زیادہ تر مواقع پر اسرائیل کو بیروت پر حملوں سے روکے رکھا۔ اس دوران اسرائیل نے جنوبی لبنان اور حالیہ دنوں میں وادی بقاع میں متعدد فضائی حملے کیے، جبکہ جنگ بندی کے دوران بیروت کو صرف دو مرتبہ نشانہ بنایا گیا، جن میں حزب اللہ کے سینئر کمانڈروں کو ہدف بنایا گیا تھا۔
پیر کے روز وقت گزرنے کے باوجود بیروت پر کوئی اسرائیلی حملہ نہ ہونے سے یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ شاید اس کارروائی کو وائٹ ہاؤس کی منظوری حاصل نہیں تھی۔
شام کے وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ساتھ ایک سخت گفتگو کے بعد اپنا مؤقف واضح کر دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ “بیروت کی جانب کوئی فوجی دستے نہیں بھیجے جائیں گے، اور جو دستے روانہ ہو چکے تھے انہیں بھی واپس بلا لیا گیا ہے۔” اگرچہ اسرائیل کی جانب سے بیروت میں زمینی فوج بھیجنے کا کوئی باضابطہ منصوبہ سامنے نہیں آیا تھا۔
دوسری جانب نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ جنوبی لبنان میں حملے “منصوبے کے مطابق” جاری رہیں گے، تاہم ٹرمپ کی مداخلت نے انہیں ایک مشکل سیاسی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ اسرائیل میں عوام کا ایک بڑا طبقہ لبنان میں مزید سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ امریکی صدر اس کی اجازت دینے کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔
نیتن یاہو ماضی میں کئی بار ٹرمپ کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو سراہ چکے ہیں، اس لیے ان کے لیے امریکی صدر کی ہدایات کے خلاف کھل کر جانا آسان نہیں ہوگا۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اسرائیل میں انتخابات قریب آ رہے ہیں اور نیتن یاہو کے پاس تاحال ووٹروں کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی واضح کامیابی موجود نہیں۔ نہ لبنان میں، نہ غزہ میں اور نہ ہی ایران کے محاذ پر۔